🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

896. باب إعادة الصلاة - ذكر الإباحة للمرء أن يؤدي فرضه جماعة ثم يؤم الناس بتلك الصلاة
نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنا فرض جماعت سے ادا کرے پھر لوگوں کو اسی نماز کی امامت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2400
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ، قَالَ: فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى مَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَنَحَّى فَصَلَّى وَحْدَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا لَكَ يَا فُلانُ، أَنَافَقْتَ؟ قَالَ: مَا نَافَقْتُ، وَلآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلأُخْبِرَنَّهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَنَحَّيْتُ فَصَلَّيْتُ وَحْدِي، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ، وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا" ، قَالَ عَمْرٌو:" وَأَمَرَهُ بِسُوَرٍ قِصَارٍ" لا أَحْفَظُهَا، قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْنَا لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ قَالَ لَهُمْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" اقْرَأْ بِ: السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى"، قَالَ عَمْرٌو: نَحْوَ هَذَا.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان کی امامت کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی۔ سیدنا معاذ بن جبل صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر وہ ہمارے پاس واپس آئے اور ہماری امامت کرنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ خاضرین میں سے ایک صاحب نے جب یہ صورت حال دیکھی تو وہ پیچھے ہٹے۔ انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور چلے گئے۔ ہم نے ان صاحب سے دریافت کیا۔ اے فلاں کیا وجہ ہے کیا تم منافق ہو گئے ہو اس نے جواب دیا: میں منافق نہیں ہوا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہو کر آپ کو اس بارے میں بتاؤں گا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! سیدنا معاذ آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں پھر وہ واپس آ کر ہماری امامت کرتے ہیں۔ گزشتہ رات آپ نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی تھی۔ انہوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی پھر یہ ہمارے پاس واپس آئے اور آگے کھڑے ہوئے انہوں نے سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں پیچھے ہٹا اور اکیلے نماز ادا کر لی۔ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم کام کاج کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم خود کام کرتے ہیں (ہمارے لیے اتنی لمبی نماز پڑھنا مشکل ہوتا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! کیا تم آزمائش کا شکار کرنا چاہتے ہو تم فلاں اور فلاں سورت کی تلاوت کیا کرو۔ عمرو نامی راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مختصر سورتوں کو پڑھنے کا حکم دیا تھا ان صورتوں کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عمرو بن دینار نامی راوی سے کہا:۔ ابوزبیر نامی راوی نے ان لوگوں کو یہ حدیث سنائی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ سے یہ فرمایا تھا، تم سورہ طارق سورہ بروج سورہ شمس کی تلاوت کیا کرو۔ تو عمرو نے کہا: اسی کی مانند (الفاظ ہوں گے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2400]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2393»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (613 و 756): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، إبراهيم بن بشار الرمادي من الحفاظ إلا أن له أوهاماً وقد توبع، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين، سفيان: هو ابن عيينة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں