🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

969. باب النوافل - ذكر الإباحة للمرء أن يصلي قبل الظهر أربع ركعات
نفل نمازوں کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2474
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَبِاللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ"، قُلْتُ: قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي لَيْلا طَوِيلا قَاعِدًا، وَلَيْلا طَوِيلا قَائِمًا"، قُلْتُ: كَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا؟ وَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا؟ قَالَتْ:" كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" .
عبدالله بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعات مغرب کے بعد دو رکعات عشاء کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے، رات کے وقت آپ تو رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: کھڑے ہو کر ادا کرتے تھے یا بیٹھ کر ادا کرتے تھے، تو انہوں نے بتایا: آپ رات کے وقت بیٹھ کر طویل نماز ادا کرتے تھے اور کھڑے ہو کر بھی طویل نماز ادا کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: جب آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے تھے، تو آپ کیا کرتے تھے اور جب آپ بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے، پھر آپ کیا کرتے تھے، تو انہوں نے بتایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قرأت کرتے تھے، تو آپ رکوع میں بھی کھڑے ہو کر جاتے تھے اور جب آپ بیٹھ کر قرات کرتے تھے، تو آپ رکوع بھی بیٹھے ہوئے کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 730، 1156، وابن الجارود فى "المنتقى"، 306، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1114، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 356، 2461، 2474، 2475، 2510، 2511، 2631، 3580، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1027، 1189، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 955، 1251، والترمذي فى (جامعه) برقم: 375، 436، 768، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1150، 1164، 1228، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24653» «رقم طبعة با وزير 2465»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (880 و 1137)، «مختصر الشمائل» (236)، «صفة الصلاة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، خالد الأول: هو خالد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد الطحان الواسطي، والثاني: هو خالد بن مهران البصري الحذّاء.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں