صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1195. باب المسافر - ذكر ما يقول المرء عند قفوله من الأسفار
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی اپنے سفر سے واپسی پر کہتا ہے
حدیث نمبر: 2707
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، كَبَّرَ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ فِي الأَرْضِ ثَلاثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ، سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے یا حج یا عمرے سے واپس آتے تھے، تو آپ ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے، پھر یہ پڑھتے تھے۔ ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لیے ہے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لیے مخصوص ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہیں (ہم) رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں سجدہ کرنے والے ہیں اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیںاللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور (دشمن کے) لشکروں کو تنہا پسپا کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2707]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2696»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2475): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما