صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1203. باب المسافر - ذكر ما يقول المرء عند دخوله بيته إذا رجع قافلا من سفره
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت کہتا ہے جب وہ اپنے سفر سے واپس آئے
حدیث نمبر: 2716
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّبْنَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ، اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ"، فَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ، قَالَ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا سَاجِدُونَ"، فَإِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ، قَالَ:" تَوْبًا تَوْبًا، لِرَبِّنَا أَوْبًا، لا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ ”اے اللہ! سفر میں، تو ہی ساتھی ہے غیر موجودگی میں گھر والوں کا تو ہی نگران ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت واپسی پر کسی پریشان صورتحال سے سامنا کرنے کی تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے۔“ جب آپ واپسی کا ارادہ کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: ”ہم رجوع کرنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ کرنے والے ہیں۔“ جب آپ اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے، تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ ”توبہ کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہوئے (ہم گھر آتے ہیں) وہ ہمارا کوئی گناہ نہ باقی رہنے دے)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2705»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (2338).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات غير سماك فإنه صدوق لكن روايته عن عكرمة فيها اضطراب