سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب كَيْفَ يَسْتَاكُ
باب: مسواک کیسے کرے؟
حدیث نمبر: 49
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ، قَالَ:" أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَرَأَيْتُهُ يَسْتَاكُ عَلَى لِسَانِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَاكُ، وَقَدْ وَضَعَ السِّوَاكَ عَلَى طَرَفِ لِسَانِهِ وَهُوَ يَقُولُ: آهْ آهْ يَعْنِي يَتَهَوَّعُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مُسَدَّدٌ: فَكَانَ حَدِيثًا طَوِيلًا، وَلَكِنِّي اخْتَصَرْتُهُ.
ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: (مسدد کی روایت میں ہے کہ) ہم سواری طلب کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک پھیر رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور سلیمان کی روایت میں ہے: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، اور مسواک کو اپنی زبان کے کنارے پر رکھ کر فرماتے تھے ”اخ اخ“ جیسے آپ قے کر رہے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: حدیث لمبی تھی مگر میں نے اس کو مختصر کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 49]
جناب ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے سواری طلب کرنے آئے تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان پر مسواک کر رہے تھے۔ یہ مسدد کی روایت کے الفاظ ہیں۔ اور سلیمان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسواک زبان کے کنارے پر رکھی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”اہ، اہ“ کی آواز نکل رہی تھی جیسے کہ ابکائی آ رہی ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مسدد نے کہا: ”حدیث لمبی تھی مگر میں نے اسے مختصر کر دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 49]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 73 (244)، صحیح مسلم/الطھارة 15 (254)، سنن النسائی/الطھارة 3 (3)، (تحفة الأشراف: 9123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/417) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (244) صحيح مسلم (254)