🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

90. فصل في أعمار هذه الأمة - ذكر البيان بأن من طال عمره وحسن عمله قد يفوق الشهيد في سبيل الله تبارك وتعالى
فصل: اس امت کی عمروں کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص لمبی عمر پائے اور اچھے اعمال کرے وہ اللہ کی راہ میں شہید سے بھی بڑھ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2982
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، يزيد أحدهما عَنْ صَاحِبِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلانِ مِنْ بَلِيٍّ، فَكَانَ إِسْلامُهُمَا جَمِيعًا وَاحِدًا، وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الآخَرِ، فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ فَاسْتُشْهِدَ، وَعَاشَ الآخَرُ سَنَةً حَتَّى صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ مَاتَ، فَرَأَى طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ خَارِجًا خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ، فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ آخِرَهُمَا، ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى طَلْحَةَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْنِ لَكَ، فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثُوهُ الْحَدِيثَ، وَعَجِبُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ أَشَدَّ الرَّجُلَيْنِ اجْتِهَادًا، وَاسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدَخَلَ هَذَا الْجَنَّةَ قَبْلَهُ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ بِسَنَةٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ، وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا فِي الْمَسْجِدِ فِي السَنَةِ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَلَمَّا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ، وَقُتِلَ طَلْحَةُ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلاثِينَ يَوْمَ الْجَمَلِ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بلی نامی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ کوشش کرنے والا تھا اس کوشش کرنے والے نے جنگ میں حصہ لیا اور جام شہادت نوش کر لیا دوسرا شخص مزید ایک سال تک زندہ رہا، یہاں تک کہ اس نے رمضان کے روزے بھی رکھے پھر اس کا انتقال ہوا۔ ایک مرتبہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا ایک شخص جنت سے باہر آیا اس نے اس شخص کو جنت میں جانے کی اجازت دی جس کا انتقال ان دونوں افراد میں سے بعد میں ہوا تھا پھر وہ شخص جنت سے باہر آیا اور اس نے اسے اندر جانے کی اجازت دی جو شہید ہوا تھا پھر وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف واپس آیا اور بولا: تم ابھی واپس چلے جاؤ ابھی تمہارا وقت نہیں آیا اگلے دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں لوگوں سے بات چیت کی اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا اور اپنی حیرانگی کا اظہار کیا ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ شخص، تو ان دونوں میں سے زیادہ کوشش کرنے والا تھا اور وہ اللہ کی راہ میں شہید بھی ہوا تھا، لیکن یہ (دوسرے والا) اس سے پہلے جنت میں داخل ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا اس نے اس کے بعد ایک سال تک زندگی بسر نہیں کی تھی؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا تھا اور اس میں روزے رکھے تھے اور سال بھر میں مسجد میں اتنی اتنی نمازیں ادا نہیں کی تھیں؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی لیے ان دونوں کے درمیان اس سے زیادہ فرق ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔ ابوسلمہ نامی راوی کا انتقال 94 ہجری میں ہوا تھا جبکہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے موقع پر سن 36 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 2982]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2971»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 142).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں