صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. باب جمع المال من حله وما يتعلق بذلك - ذكر وصف المال الذي يأخذه المرء بحقه
حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس مال کی کیفیت کا ذکر جو آدمی اپنے حق کے ساتھ لیتا ہے
حدیث نمبر: 3227
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ حَدَّثَنَا الُوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحِيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ:" إِنَّ مِمَّا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زُهْرَةِ الدُّنِيَا وَزِينَتِهَا"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَلُمْنَا الرَّجُلَ حِينَ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يُكَلِّمُهُ، فَلَمَّا جُلِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ يَمْسَحُ الرُّحَضَاءَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟"، فَكَأَنَّهُ قَدْ حَمِدَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا هِيَ امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ نِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ لِمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ، فَأَعْطَى مِنْهُ الِيَتِيمَ وَالْمِسْكِينَ وَالسَّائِلَ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ مجھے اس بات کا ہے کہ تمہارے سامنے دنیا کی چمک اور زیب و زینت کو کھول دیا جائے گا، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو ہم نے اس شخص کو ملامت کی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تھی، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے پسینے کو پونچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے، تو گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی تعریف کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک بھلائی برائی کو نہیں لے کر آتی، لیکن موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ کسی کو مار دیتا ہے اور کسی کو ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے، البتہ سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے وہ کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ پھول جاتا ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتا ہے پیشاب کرتا ہے، تو یہ مال مسلمان کا بہترین ساتھی ہے، لیکن اس شخص کا جو اسے حق کے ساتھ حاصل کرے اور اس میں سے یتیم، مسکین اور مانگنے والے کو دے اور جو شخص اسے ناحق طور پر حاصل کرتا ہے اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور یہ (مال) قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3227]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3217»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مكرر (3215). تنبيه!! رقم (3215) = (3225) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري