سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
117. باب مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ بَيْنَ الأَيَّامِ
باب: مستحاضہ عورت استحاضہ کے دنوں میں غسل کرے۔
حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ، فَقَالَ:" تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فَتُصَلِّي، ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي الْأَيَّامِ".
محمد بن عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد سے مستحاضہ کے بارے میں پوچھا تو قاسم بن محمد نے کہا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی، پھر باقی ایام میں غسل کرتی رہے گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 303]
محمد بن عثمان رحمہ اللہ نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رکھے، پھر (ان کے ختم ہونے پر) غسل کرے اور نماز پڑھنا شروع کر دے اور پھر ان دنوں کے درمیان (موقع بموقع) غسل کرتی رہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 19205) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انفرد به ابو داود
انفرد به ابو داود