🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

128. باب دخول مكة - ذكر جواز طواف المرء على راحلته
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی سواری پر طواف کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3828
أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ، وَمَا وَجَدَ لَهَا مُنَاخًا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أُخْرِجَتْ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، فَأُنِيخَتْ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَاثْنَيْ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَا بَعْدَ، أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلانِ بَرٌّ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى رَبِّهِ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ هَيِّنٌ عَلَى رَبِّهِ"، ثُمَّ تَلا: يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا سورة الحجرات آية 13 حَتَّى قَرَأَ الآيَةَ، ثُمَّ قَالَ:" أَقُولُ هَذَا وَاسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی قصواء پر طواف کیا تھا۔ آپ نے اپنی چھڑی کے ذریعے حجر اسود کا استلام کیا۔ آپ کو اونٹنی کو بٹھانے کے لیے مسجد میں کوئی جگہ نہیں ملی، یہاں تک کہ اسے وادی کے نشیبی حصے کی طرف لے جا کر بٹھایا گیا پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی۔ امابعد! اے لوگو بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی خرابیوں کو ختم کر دیا ہے۔ اے لوگو! لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے پروردگار کے نزدیک نیک اور معزز ہوں اور وہ جو اپنے پروردگار کے نزدیک گناہگار بدبخت اور بے حیثیت ہوں پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں مذکر اور مونث سے پیدا کیا ہے ہم نے تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کیا ہے، تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت حاصل کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت مکمل تلاوت کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میں یہ بات کہتا ہوں میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3828]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3817»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2803).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں