صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
147. باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منهما
عرفات اور مزدلفہ میں وقوف اور وہاں سے روانگی کا بیان -
حدیث نمبر: 3848
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ، أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ، فَقَالَ:" أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟"، قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ"، قُلْنَا: بَلَى، فَقَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وأَمْوَالَكُمْ، وَأَوْلادَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ يَبْلُغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کرتے ہیں: آپ نے اپنے اونٹ پر وقوف کیا ہوا تھا، جس کی لگام کو کسی صاحب نے تھاما ہوا تھا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: آج کون سا دن ہے، تو ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام تجویز کریں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے۔ ہم نے یہ سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالج نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے، تو ہم خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس نام کی بجائے دوسرا نام تجویز کریں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ قابل احترام شہر نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری جانیں تمہارا مال تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے۔ خبردار! تم میں سے ہر موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے، کیونکہ (ممکن ہے) موجود شخص اس شخص تک یہ بات پہنچا دے جو اس سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3848]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3837»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (7078)، م (5/ 108 - 109).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم