🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

239. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر وصف حجة المصطفى صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی صفت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3943
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا بِالْمَدِينَةِ، لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ، فَلَمَّا جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَهِلِّي" ، قَالَ: فَفَعَلَتْ، فَلَمَّا اطْمَأَنَّ صَدْرُ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِ الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ وَأَهْلَلْنَا، لا نَعْرِفُ إِلا الْحَجِّ، وَلَهُ خَرَجْنَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، وَهُوَ يُعْرَفُ تَأْوِيلَهُ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ". قَالَ جَابِرٌ : فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي مَدَّ بَصَرِي، وَالنَّاسُ مُشَاةٌ وَرُكْبَانٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ"، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، بَدَأَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ سَعَى ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ انْطَلَقَ إِلَى الْمَقَامِ، فَقَالَ: قَالَ اللَّهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَصَلَّى خَلْفَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الصَّفَا، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَكَبَّرَ ثَلاثًا، وَقَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهَ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمَلِكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ثَلاثًا، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ هَبَطَ مِنَ الصَّفَا، فَمَشَى حَتَّى إِذَا تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدَتْ قَدَمَاهُ مِنْ بَطْنِ الْمَسِيلِ، مَشَى إِلَى الْمَرْوَةِ، فَرَقِيَ عَلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عَلَى الصَّفَا، فَطَافَ سَبْعًا، وَقَالَ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، فَإِنِّي لَوْلا أَنِّي مَعِيَ هَدْيًا لَتَحَلَّلْتُ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ" . قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ:" فَإِنَّ مَعِيَ هَدْيًا، فَلا تَحِلَّ"، قَالَ عَلِيٌّ: فَدَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ وَقَدِ اكْتَحَلَتْ، وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صِبْغٍ، فَقُلْتُ: مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا؟، فَقَالَتْ لِي: أَمَرَنِي أَبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ مُسَتَثِّبَتًا فِي الَّذِي، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَتْ، أَنَا أَمَرْتُهَا"، قَالَ: وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ مِنْ ذَلِكَ بِيَدِهِ ثَلاثًا وَسِتِّينَ، وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ قِطْعَةً فَطَبَخَ جَمِيعًا، فَأَكَلا مِنَ اللَّحْمِ، وَشَرِبَا مِنَ الْمَرَقِ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، قَالَ:" لا بَلْ لِلأَبَدِ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْعِلَّةُ فِي نَحْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ دُونَ مَا وَرَاءَ هَذَا الْعَدَدِ أَنَّ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ كَانَتْ ثَلاثًا وَسِتِّينَ سَنَةً، وَنَحَرَ لِكُلِّ سَنَةٍ مِنْ سِنِيهِ بَدَنَةً بِيَدِهِ، وَأَمَرَ عَلِيًّا بِالْبَاقِي، فَنَحَرَهَا.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران حج نہیں کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا لوگوں میں اعلان کروا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی وہاں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو جنم دیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَهِلِّي» تم غسل کر کے کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایسا ہی کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری میدان میں کھڑی ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ ہمارے ذہن میں صرف حج کا خیال تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے۔ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تفسیر کو جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی کرتے تھے جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف جہاں تک نگاہ جاتی تھی لوگوں کا ہجوم دیکھا جو پیدل بھی تھے اور سوار بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلبیہ پڑھنا شروع کیا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ بے شک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ جب ہم مکہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے حجرِ اسود کا استلام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکروں میں دوڑ کر طواف کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر کے فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ ابراہیم کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] تم لوگ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعات نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استلام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» ہم اس سے آغاز کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خانہ کعبہ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ تکبیر کہی اور یہ کلمات پڑھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے، تمام بھلائی اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ پڑھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے نیچے اترے اور عام رفتار سے چلتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم وادی کے نشیبی حصے میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم نشیبی حصے سے اوپر کی طرف چڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام رفتار سے چلتے ہوئے مروہ کی طرف تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر چڑھے جب خانہ کعبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کلمات پڑھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر پڑھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سات مرتبہ چکر لگایا اور یہ بات ارشاد فرمائی: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ احرام کھول دے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ اپنے احرام میں باقی رہے، اگر میں نے اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ رکھا ہوتا، تو میں بھی احرام کھول دیتا، مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر پہلے آ جاتا، تو میں عمرے کا تلبیہ پڑھتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: اے علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پڑھا ہے؟ انہوں نے عرض کی: میں نے یہ کہا تھا: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پڑھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے تلبیہ پڑھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے تم احرام نہ کھولو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے سرمہ لگایا ہوا تھا اور رنگین کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: تمہیں اس بات کا کس نے حکم دیا ہے؟ انہوں نے مجھے جواب دیا: میرے والد نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عراق میں یہ بات ارشاد فرمائی: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا، تاکہ فاطمہ کی شکایت لگاؤں اور انہوں نے جو بات بیان کی ہے اس معاملے کی تحقیق کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے سچ بات بیان کی ہے میں نے ہی اسے اس بات کی ہدایت کی تھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی دی جس میں سے 63 اونٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے نحر کیا اور باقی بچ جانے والوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیا، پھر ان میں سے ہر ایک جانور کا کچھ گوشت لے کر ان سب کو ملا کر پکایا گیا، تو ان دونوں حضرات نے اس کا گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا یہ حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «لَا بَلْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ» جی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے 63 اونٹ اپنے ہاتھوں سے قربان کرنے میں علت یہ ہے: اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بھی 63 سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر شریف کے ہر سال کے عوض میں اپنے دستِ مبارک کے ذریعے ایک اونٹ قربان کیا اور باقی جانوروں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ان کو قربان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3932»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1663): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں