صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
62. - باب الصداق - ذكر البيان بأن جواز المهر للنساء يكون على أقل من عشرة
مہر کے بیان کا باب - اس بات کا بیان کہ عورتوں کے لیے مہر دس سے کم پر بھی جائز ہے
حدیث نمبر: 4093
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ حَاجَةٌ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟"، فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْطَيْتَهُ إِيَّاهَا جَلَسْتَ لا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، فَقَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" فَالْتَمِسْ" فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟"، قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو شادی کی پیشکش کرتی ہوں، وہ خاتون خاصی دیر کھڑی رہی، پھر ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے تو میری شادی اس کے ساتھ کروا دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے تم اسے مہر کے طور پر دے سکو؟“ اس نے کہا: میرے پاس تو صرف میری یہ چادر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم یہ اسے دے دیتے ہو تو تمہیں بغیر چادر کے بیٹھنا پڑے گا، تم کوئی چیز تلاش کرو۔“ اس نے بتایا: مجھے کوئی چیز نہیں ملتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تلاش کرو۔“ اسے پھر کوئی چیز نہیں ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں قرآن آتا ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، فلاں اور فلاں سورتیں آتی ہیں، اس نے ان سورتوں کے نام گنوائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں جو قرآن آتا ہے اس کے عوض میں، میں تمہاری شادی اس عورت کے ساتھ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4093]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2310، 5029، 5030، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1425، وابن الجارود فى "المنتقى"، 776، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4093، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3200، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2111، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1114، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2247، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1889، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 641، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13492، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3611، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23261، والحميدي فى (مسنده) برقم: 957» «رقم طبعة با وزير 4081»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1838)، «الإرواء» (6/ 345 / 1245): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين