🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

82. - باب حرمة المناكحة - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل
نکاح کی حرمت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4116
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيًّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى الْعَمَّةِ، وَالْخَالَةِ، قَالَ: إِنَّكُنَّ إِذَا فَعَلْتُنَّ ذَلِكَ قَطَعْتُنَّ أَرْحَامَكُنَّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" أَبُو حَرِيزٍ: اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَاضِي سِجِسْتَانَ، وَأَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى الزُّهْرِيِّ ضَعِيفٌ وَاهِيٌ، اسْمُهُ سُلَيْمُ وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح کیا جائے (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ شادی کی جائے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: تم خواتین جب ایسا کرو گی، تو تم رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے کی مرتکب ہو گی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحریز نامی راوی کا نام عبداللہ بن حسین ہے یہ سجستان کا قاضی تھا جب کہ جو ابوحریز زہری کا آزاد کردہ غلام ہے یہ ضعیف اور واہی ہے اس کا نام سلیم ہے ان دونوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1125، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3599، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11805» «رقم طبعة با وزير 4104»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (352).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں