صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
24. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإباحة للإمام قبول الهدايا من المشركين إذا طمع في إسلامهم-
خلافت و امارت کا بیان - امام کے لیے اہلِ شرک سے ہدایا قبول کرنے کا جواز اگر ان کے اسلام لانے کی امید ہو۔
حدیث نمبر: 4504
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَنْطَلِقُ بِصَحِفَتِي هَذِهِ إِِلَى قَيْصَرَ وَلَهُ الْجَنَّةُ؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَإِِنْ لَمْ أُقْتَلْ؟ قَالَ:" وَإِِنْ لَمْ تُقْتَلْ". فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِهِ، فَوَافَقَ قَيْصَرَ وَهُوَ يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَدْ جُعِلَ لَهُ بِسَاطٌ لا يَمْشِي عَلَيْهِ غَيْرُهُ، فَرَمَى بِالْكِتَابِ عَلَى الْبِسَاطِ وَتَنَحَّى، فَلَمَّا انْتَهَى قَيْصَرُ إِِلَى الْكِتَابِ أَخَذَهُ، ثُمَّ دَعَا رَأْسَ الْجَاثَلِيقِ، فَأَقْرَأَهُ، فَقَالَ: مَا عِلْمِي فِي هَذَا الْكِتَابِ إِِلا كَعِلْمِكَ، فَنَادَى قَيْصَرُ: مَنْ صَاحِبُ الْكِتَابِ؟ فَهُوَ آمَنٌ. فَجَاءَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: إِِذَا أَنَا قَدِمْتُ فَأْتِنِي، فَلَمَّا قَدِمَ أَتَاهُ، فَأَمَرَ قَيْصَرُ بِأَبْوَابٍ قَصْرِهِ فَغُلِّقَتْ، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي: أَلا إِِنَّ قَيْصَرَ قَدِ اتَّبَعَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ النَّصْرَانِيَّةَ. فَأَقْبَلَ جُنْدُهُ وَقَدْ تَسَلَّحُوا حَتَّى أَطَافُوا بِقَصْرِهِ، فَقَالَ لِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ تَرَى أَنِّي خَائِفٌ عَلَى مَمْلَكَتِي، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: أَلا إِِنَّ قَيْصَرَ قَدْ رَضِيَ عَنْكُمْ، وَإِِنَّمَا خَبَرَكُمْ لَيَنْظُرُ كَيْفَ صَبْرُكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَارْجِعُوا، فَانْصَرَفُوا، وَكَتَبَ قَيْصَرُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنِّي مُسْلِمٌ وَبَعَثَ إِِلَيْهِ بِدَنَانِيرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَرَأَ الْكِتَابَ:" كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، لَيْسَ بِمُسْلِمٍ وَهُوَ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ، وَقَسَّمَ الدَّنَانِيرَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص میرے اس مکتوب کو لے کر قیصر کے پاس جائے گا اسے جنت ملے گی۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: اگرچہ مجھے قتل نہ کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تمہیں قتل نہ کیا جائے (پھر بھی تمہیں جنت ملے گی) تو وہ شخص اس خط کو لے کر روانہ ہو گیا وہ قیصر کے پاس اس وقت پہنچا جب قیصر بیت المقدس آیا ہوا تھا اور اس کے لیے ایک قالین بچھایا گیا تھا اس قالین پر قیصر کے علاوہ اور کوئی نہیں چلتا تھا اس شخص نے وہ مکتوب اس قالین پر رکھ دیا اور خود ایک طرف ہٹ گیا جب قیصر اس مکتوب تک پہنچا تو اس نے اسے حاصل کیا اور پھر اپنے معتمد خصوصی کو بلوا کر اس سے وہ خط پڑھایا تو اس نے جواب دیا: اس مکتوب کے بارے میں مجھے بھی وہی علم ہے، جو آپ کو علم ہے تو قیصر نے بلند آواز میں کہا: اس خط کو لانے والا شخص کون ہے اسے امان دی جاتی ہے تو وہ شخص آ گیا قیصر نے کہا: جب میں آ جاؤں، تو تم میرے پاس آ جانا جب قیصر آیا تو وہ شخص اس کے پاس آیا قیصر نے اپنے دروازوں کے بارے میں حکم دیا انہیں بند کر دیا گیا پھر اس نے منادی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا: کہ قیصر نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر لی ہے اور عیسائیت کو ترک کر دیا ہے تو اس کے سپاہی آگے بڑھے انہوں نے اسلحہ اٹھایا ہوا تھا انہوں نے اس کے محل کا محاصرہ کر لیا تو قیصر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی سے کہا: تم نے دیکھ لیا ہے مجھے اپنی حکومت کے حوالے سے خوف ہے پھر اس نے منادی کو یہ اعلان کرنے کو کہا: خبردار قیصر تم لوگوں سے راضی ہے اس نے تم لوگوں کا امتحان لینا چاہا تھا کہ تم اپنے دین کے بارے میں کتنے پختہ ہو تم لوگ واپس چلے جاؤ تو وہ لوگ واپس چلے گئے پھر قیصر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ میں مسلمان ہوں اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دینار بھی بھجوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کا مکتوب پڑھا تو ارشاد فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط کہا: ہے یہ مسلمان نہیں ہے یہ عیسائیت پر قائم ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار تقسیم کروا دیئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4487»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: إِسنادهُ صحيح، رجاله كلُّهم ثِقاتٌ. وعزا الحافظ في «الفتح» (1/ 37) قوله: «كَذَبَ عَدُو الله ... » إلى «مسند أحمد»! وما أراه إلاَّ وَهماً، وذكر شاهداً مِنْ رِوايةِ أبي عُبيدٍ في كتاب «الأموال» (255/ 624) بسند صحيح مِنْ مُرسل بكر بن عبد الله المُزنيِّ ... نحوه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح