🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الجواز للمرء أن يتخذ الكاتب لنفسه لما يعترضه من أحوال الدين في الأسباب-
خلافت و امارت کا بیان - دینی معاملات اور اسباب کے پیش آنے پر شخص کے لیے اپنے لیے کاتب مقرر کرنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4507
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" أَرْسَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِِلَيَّ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ لِي: إِِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبُ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ لا يُوعَى، وَإِِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي بِذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَعُمَرُ جَالِسٌ عِنْدَهُ لا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لا نَتَّهِمُكَ، وَكُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّبِعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. قَالَ: قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ:" فَقُمْتُ أَتَتَبَّعُ الْقُرْآنَ، أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَالأَكْتَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ، حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ الأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ غَيْرِهِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ سورة التوبة آية 128، وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جَمَعْتُ فِيهَا الْقُرْآنَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَيَاتَهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ" . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ" أَنَّهُ اجْتَمَعَ لِغَزْوَةِ أَذْرِبِيجَانَ وَأَرْمِينِيَةَ أَهْلِ الشَّامِ، وَأَهْلِ الْعِرَاقِ، فَتَذَاكَرُوا الْقُرْآنَ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ حَتَّى كَادَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، قَالَ: فَرَكِبَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ لَمَّا رَأَى اخْتِلافَهُمْ فِي الْقُرْآنِ إِِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ: إِِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي الْقُرْآنِ، حَتَّى إِِنِّي وَاللَّهِ لأَخْشَى أَنْ يُصِيبَهُمْ مَا أَصَابَ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنَ الاخْتِلافِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ عُثْمَانُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَزِعًا شَدِيدًا، وَأَرْسَلَ إِِلَى حَفْصَةَ فَاسْتَخْرَجَ الصُّحُفَ الَّتِي كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَمَرَ زَيْدًا بِجَمْعِهَا، فَنَسَخَ مِنْهَا الْمَصَاحِفَ، فَبَعَثَ بِهَا إِِلَى الآفَاقِ، ثُمَّ لَمَّا كَانَ مَرْوَانُ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ أَرْسَلَ إِِلَى حَفْصَةَ يَسْأَلُهَا عَنِ الصُّحُفِ لِيُمَزِّقَهَا، وَخَشِيَ أَنْ يُخَالِفَ بَعْضُ الْعَامِ بَعْضًا، فَمَنَعْتُهُ إِِيَّاهَا" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَتْ حَفْصَةُ، أَرْسَلَ إِِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِعَزِيمَةٍ لِيُرْسِلَ بِهَا، فَسَاعَةَ رَجَعُوا مِنْ جَنَازَةِ حَفْصَةَ أَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِِلَى مَرْوَانَ فَحَرَقَهَا مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ اخْتِلافٌ لَمَّا نَسْخَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگِ یمامہ کے بعد مجھے بلوایا، وہاں ان کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ جنگِ یمامہ میں بہت سے قراء شہید ہو گئے ہیں، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر مختلف علاقوں میں اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا جسے ابھی جمع نہیں کیا گیا، لہٰذا میری یہ رائے ہے کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے (عمر سے) کہا کہ تم ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ کام بہتر ہی ہے۔ اس کے بعد یہ مسلسل اس بارے میں مجھ سے بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں میرا شرحِ صدر فرما دیا اور اس معاملے میں میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تھی۔ (سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے کوئی بات نہیں کی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایک نوجوان اور عقلمند آدمی ہو، ہم تم پر کوئی الزام عائد نہیں کرتے، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت بھی کرتے رہے ہو، لہٰذا تم قرآن کو تلاش کر کے اسے ایک جگہ جمع کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا پابند کر دیتے تو میرے لیے یہ اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ان کا قرآن جمع کرنے کا حکم دینا مشکل تھا۔ میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ کام زیادہ بہتر ہے۔ اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں میرا بھی وہی شرحِ صدر فرما دیا جو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا فرمایا تھا۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے قرآن کو تلاش کرنے کا کام شروع کر دیا۔ میں نے اسے کھجور کی شاخوں، پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کیا، یہاں تک کہ سورہ توبہ کی آخری آیات مجھے سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں اور یہ آیات ان کے علاوہ مجھے اور کسی کے پاس (تحریری شکل میں) نہیں ملیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ﴾ [سورة التوبة: 128] تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے، جو تم میں سے ہے۔ وہ صحیفہ جسے میں نے جمع کیا تھا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں رہا، یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا، پھر جب ان کی وفات ہو گئی تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا۔
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آذر بائیجان اور آرمینیا کی فتح کے موقع پر اہل شام اور اہل عراق کے ساتھ جنگ میں شریک تھے، وہاں انہوں نے قراتِ قرآن کے بارے میں لوگوں میں اختلاف دیکھا تو اس بارے میں ان کے درمیان سخت نزاع پیدا ہو گیا، یہاں تک کہ اس بات کا اندیشہ ہوا کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہو جائے۔ جب سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ اختلاف دیکھا تو وہ سوار ہو کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے امیر المومنین! اس امت کی خبر لیجیے اس سے پہلے کہ یہ بھی کتاب اللہ کے بارے میں اسی طرح اختلاف کا شکار ہو جائیں جیسے یہودی اور عیسائی ہوئے تھے۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس بات پر انتہائی پریشان ہو گئے، انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھجوایا اور وہ صحیفہ منگوایا جسے جمع کرنے کا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس صحیفے کی مختلف نقلیں تیار کروائیں اور انہیں مختلف علاقوں میں بھجوایا۔ پھر جب مروان مدینہ منورہ کا گورنر بنا تو اس نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا اور ان سے وہ مصحف منگوایا تاکہ اسے ضائع کر دے، اسے یہ اندیشہ تھا کہ بعض لوگ اس حوالے سے بعض کی مخالفت کریں گے، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اسے دینے سے انکار کر دیا۔
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو مروان نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو قسم دے کر یہ پیغام بھجوایا کہ وہ مصحف اسے بھجوا دیں، چنانچہ جس وقت وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے جنازے سے واپس آ رہے تھے، اسی وقت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ نسخہ مروان کو بھجوا دیا، تو مروان نے اسے جلوا دیا، اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس نسخے کی وجہ سے دوبارہ قرات میں وہ اختلاف نہ پیدا ہو جائے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ نسخے کے خلاف ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4507]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2807، 3506، 4049، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4506، 4507، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3103، 3104، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 418، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2410، وأحمد فى (مسنده) برقم: 58» «رقم طبعة با وزير 4490»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں