صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
125. باب فضل الجهاد - ذكر البيان بأن يوما في سبيل الله خير من ألف يوم في غيره من الطاعات-
جہاد کے فضائل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ کی راہ میں ایک دن گزارنا دیگر عبادتوں کے ہزار دن سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 4609
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مِعَنٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ بِمِنًى: أَيُّهَا النَّاسُ، إِِنِّي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا كُنْتُ كَتَمْتُكُمُوهُ ضَنًّا بِكُمْ، وَقَدْ بَدَا لِي أَنْ أُبْدِيَهُ نَصِيحَةً لِلَّهِ وَلَكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَوْمٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ، فَلْيَنْظُرْ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ لِنَفْسِهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو مِعَنٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مِعَنٍ الْغِفَارِيُّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَأَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ أَهْلِ الرَّمْلَةِ، وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ اسْمُهُ الْحَارِثُ.
ابوصالح، جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں مسجدِ خیف میں یہ بات ارشاد فرمائی: اے لوگو! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں نے تمہارے ساتھ بخل کی وجہ سے اسے تم سے چھپا رکھا تھا، لیکن اب یہ مجھے مناسب محسوس ہوا کہ میں اللہ تعالیٰ اور تمہارے لیے خیر خواہی کرتے ہوئے اسے ظاہر کر دوں۔“ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی راہ میں ایک دن گزارنا اس کے علاوہ ایک ہزار دن گزارنے سے بہتر ہے“، تو اب تم میں سے ہر شخص کو اپنے بارے میں جائزہ لے لینا چاہیے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومعن نامی راوی محمد بن معن غفاری ہے، یہ اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ ابوعقیل نامی راوی زہرہ بن معبد ہے اور یہ اہل رملہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ابوصالح کا نام حارث ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4609]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4609، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2394، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3169، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1667، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2468، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2766، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17961، 18576، وأحمد فى (مسنده) برقم: 440» «رقم طبعة با وزير 4590»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الأحاديث المختارة» (305 - 310).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح