🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. باب الإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے (مقتدیوں کی طرف) مڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ".
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو (نمازیوں کی طرف) مڑ گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 614]
جناب جابر بن یزید بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو قبلے کی طرف سے (مقتدیوں کی طرف) پھر جایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 51 (219)، الإمامة 54 (857)، (تحفة الأشراف: 11823)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/275، 279) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سلام پھیرنے کے بعد) اپنا رخ ہماری طرف کر لیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 615]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے ہوں کہ آپ (بعد از سلام) ہماری طرف رخ کریں گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 8 (709)، سنن النسائی/الإمامة 34 (823)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1006)، (تحفة الأشراف: 1789)، وقد أخرجہ: (4/290، 304) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر داہنی طرف مڑتے تھے، اس لئے لوگ آپ کے دائیں رہنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف بھی مڑتے تھے۔ سلام کے بعد امام کا حالت تشہد سے پھر کر مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھنا مسنون ہے۔ اور اس طرح بیٹھے کہ دائیں جانب والوں کی طرف رخ قدرے زیادہ ہو اور بائیں طرف والے بھی اچھی طرح اس کی نظر میں ہوں۔ اس طرح بیٹھنا کہ بائیں جانب والوں کی طرف پشت ہو جائے صحیح نہیں ہے۔ اور مذکورہ عمل دائمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ کبھی کبھی رخ بائیں جانب بھی ہونا چاہیے۔ (تفصیل آئندہ کی احادیث میں ان شاء اللہ آئے گی)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (709)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں