صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
19. ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر أبي هريرة الذي ذكرناه-
- یہ خبر جس سے بعض ناواقف لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے خلاف ہے جسے ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 5074
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لأَبِي، فَقَالَ الكنديُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي زَرَعْتُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَلَكَ يَمِينُهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ، لا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ:" لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلا ذَلِكَ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ" .
علقمہ بن وائل اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرموت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور کندہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے جو میرے باپ کی ملکیت تھی، کندی نے کہا: وہ زمین میری ہے، میرے قبضے میں ہے، میں نے اس پر کھیتی باڑی کی ہے اور اس کا اس زمین میں کوئی حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے؟“ اس نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہیں قسم اٹھانی ہو گی۔“ دوسرے شخص نے عرض کی: یہ گناہ گار شخص ہے، یہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ کس بات پر قسم اٹھا رہا ہے اور یہ کسی چیز سے ڈرتا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے تمہیں یہی چیز مل سکتی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جانے کے بعد ارشاد فرمایا: ”اگر اس شخص نے اس مال کے بارے میں اس لیے قسم اٹھائی ہے تاکہ ظلم کے طور پر اسے ہتھیا لے، تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ القَضَاءِ/حدیث: 5074]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1079، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5074، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5946، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3245، 3623، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1340، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20531،والدارقطني فى (سننه) برقم: 4482، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19165» «رقم طبعة با وزير 5051»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2631): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم