سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
128. باب تَخْفِيفِ الصَّلاَةِ لِلأَمْرِ يَحْدُثُ
باب: کسی حادثہ کے پیش آ جانے پر نماز ہلکی کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 789
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اسے لمبی کروں پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں، تو اسے مختصر کر دیتا ہوں، اس اندیشہ سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 789]
جناب عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ ہوتا ہے کہ اسے لمبا کروں گا مگر میں بچے کا رونا سنتا ہوں تو اسے مختصر کر دیتا ہوں تاکہ اس کی ماں بے چین نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 65 (707)، 163 (868)، سنن النسائی/الإمامة 35 (826)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 49 (991)، (تحفة الأشراف: 12110)، وقد أخرجہ: (حم 5/305) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (707)