صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
69. فصل في الأشربة - ذكر البيان بأن النبيذ الذي وصفنا كان إذا أتي عليه نهاية معلومة أهريق ولم يشربه النبي صلى الله عليه وسلم-
پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ جو نبیذ ہم نے ذکر کیا، اگر وقت کے آخر میں آیا تو ضائع کر دیا جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں پیتے
حدیث نمبر: 5386
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ، عَنِ النَّبِيذِ، قَالَ:" خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي حَنَاتِمَ، وَنَقِيرٍ، وَدُبَّاءٍ، فَأَمَرَ بِهَا، فَأُهْرِيقَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ، فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي تُسْتَقْبَلُ، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ، فَإِذَا أَمْسَى شَرِبَ وَسَقَى، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمَرَ بِهِ، فَأُهْرِيقَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تشریف لے گئے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے حنتم، نقیر اور دباء نامی مخصوص قسم کے برتنوں میں نبیذ تیار کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے وقت نبیذ تیار کی گئی، اگلے دن کی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا، اس کے بعد اگلی رات آئی، اس کے بعد اگلا دن آیا، یہاں تک کہ جب اس کی شام آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور لوگوں کو بھی پلایا، اس کے اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت صبح کے وقت اس نبیذ کو بہا دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ/حدیث: 5386]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2004، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5384، 5386، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5753، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3713، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3399، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17508، 17509، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1988» «رقم طبعة با وزير 5362»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح