صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
18. ذكر البيان بأن لبس الحرير ليس من لباس المتقين-
- اس باب میں بیان ہے کہ ریشم پہننا متقی لوگوں کا شیوہ نہیں۔
حدیث نمبر: 5433
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، وَقَالَ: " لا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فَرُّوجُ الْحَرِيرِ: هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى دُرُوزِهِ حَرِيرٌ، دُونَ أَنْ يَكُونَ الْكَلُّ مِنَ الْحَرِيرِ، وَلَوْ كَانَ الْكَلُّ حَرِيرًا مَا لَبِسَهُ، وَلا صَلَّى فِيهِ، وَهَذَا مَعْنَى خَبَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِلا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی جبہ پیش کیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا پھر آپ نے اس میں نماز ادا کی۔ آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے اسے ناپسند کرتے ہوئے سختی سے اتار دیا اور فرمایا: یہ پرہیزگاروں کے لئے مناسب نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) فروج حریر سے مراد وہ کپڑا ہے جس کا تانا ریشم کا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا ریشم نہیں ہوتا اگر وہ سارے کا سارا ریشم کا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ اسے پہنتے اور نہ ہی اسے پہن کر نماز ادا کرتے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کا بھی یہی مطلب ہے صرف دو یا تین یا چار انگلیوں جتنی (ریشم کی پٹی لگانے) کی اجازت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5433]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) فروج حریر سے مراد وہ کپڑا ہے جس کا تانا ریشم کا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا ریشم نہیں ہوتا اگر وہ سارے کا سارا ریشم کا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہ اسے پہنتے اور نہ ہی اسے پہن کر نماز ادا کرتے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کا بھی یہی مطلب ہے صرف دو یا تین یا چار انگلیوں جتنی (ریشم کی پٹی لگانے) کی اجازت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5433]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5409»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 5434
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا، فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَذَهَبًا، فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، وَقَالَ:" هَذَانِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: خَبَرُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى فِي هَذَا الْبَابِ، مَعْلُولٌ لا يَصِحُّ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لیا۔ آپ نے اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا اور سونا لیا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ میں رکھا پھر آپ نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور فرمایا: یہ دونوں میری اُمت کے مردوں کے لئے حرام ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید بن ابوہند نے ابوموسیٰ کے حوالے سے اس بارے میں جو روایت نقل کی ہے وہ معلول ہے اور مستند نہیں ہے۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5434]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سعید بن ابوہند نے ابوموسیٰ کے حوالے سے اس بارے میں جو روایت نقل کی ہے وہ معلول ہے اور مستند نہیں ہے۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِهِ/حدیث: 5434]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5410»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (1/ 305 / 277).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح