صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. ذكر الزجر عن أن يتختم المرء بخاتم الحديد أو الشبه-
- باب اس وعید کا کہ انسان لوہے یا پیتل کی انگوٹھی نہ پہنے۔
حدیث نمبر: 5488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ أَبُو طَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ، فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الأَصْنَامِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: مِنْ وَرِقٍ، وَلا تُتِمَّهُ مِثْقَالاً" .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے لوہے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے میں تم پر اہل جہنم کا زیور دیکھ رہا ہوں۔ اس شخص نے اسے اتار دیا پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے شبہ کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے مجھے تم سے بتوں کی بو آ رہی ہے۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کی اور تم اس کی ایک مثقال پوری نہ کرنا (یعنی اس سے کم وزن کی ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزِّينَةِ وَالتَّطْيِيبِ/حدیث: 5488]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5464»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (4396)، «آداب الزفاف» (217 - 218 / الكتبة الإسلامية).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف