صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء في الفتن-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان -
حدیث نمبر: 5939
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 5939]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 48، 6044، 7076، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 64، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5939، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1983، 2634، 2635، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 46، 69، 3939، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15952، 15953، 20969، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3721» «رقم طبعة با وزير 5909»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (442): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5940
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ جَرِيرٍ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْصَتَ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، ثُمَّ قَالَ: " لا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا" لَمْ يُرِدْ بِهِ الْكُفْرَ الَّذِي يُخْرِجُ عَنِ الْمِلَّةِ، وَلَكِنَّ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الشَّيْءَ إِذَا كَانَ لَهُ أَجْزَاءٌ يُطْلَقُ اسْمُ الْكُلِّ عَلَى بَعْضِ تِلْكَ الأَجْزَاءِ، فَكَمَا أَنَّ الإِسْلامَ لَهُ شُعَبٌ، وَيُطْلَقُ اسْمُ الإِسْلامِ عَلَى مُرْتَكِبِ شُعْبَةٍ مِنْهَا لا بِالْكُلِّيَّةِ، كَذَلِكَ يُطْلَقُ اسْمُ الْكُفْرِ عَلَى تَارِكِ شُعْبَةٍ مِنْ شُعَبِ الإِسْلامِ لا الْكُفْرِ كُلِّهِ، وَللإِسْلامِ وَالْكُفْرِ مُقَدِّمَتَانِ، لا تُقْبَلُ أَجْزَاءُ الإِسْلامِ إِلا مِمَّنْ أَتَى بِمُقَدِّمَتِهِ، وَلا يَخْرُجُ مِنْ حُكْمِ الإِسْلامِ مَنْ أَتَى بِجُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الْكُفْرِ، إِلا مَنْ أَتَى بِمُقَدِّمَةِ الْكُفْرِ، وَهُوَ الإِقْرَارُ وَالْمَعْرِفَةُ، وَالإِنْكَارُ وَالْجَحْدُ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خاموش کروایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا“ اس کے ذریعے وہ کفر مراد نہیں ہے، جس کی وجہ سے آدمی اسلام سے نکل جاتا ہے بلکہ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی چیز کے مختلف حصے ہوں، تو ان میں سے بعض اجزاء پر اس پوری چیز کے نام کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، جس طرح اسلام کے مختلف شعبے ہیں، تو ان میں سے کسی ایک شعبے کے مرتکب شخص پر بھی لفظ اسلام کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، یہ لازم نہیں ہے کہ پورے پر ہی اسلام کا اطلاق کیا جائے اسی طرح کفر کا اطلاق اسلام کے کسی ایک شعبہ کو ترک کرنے والے پر بھی کیا جا سکتا ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ مکمل اسلام کو ترک کرنے والے پر یہ کفر کا اطلاق کیا جائے، تو اسلام اور کفر سے کچھ مقدمات ہیں اسلام کے اجزاء صرف اسی شخص سے قبول کیے جائیں گے جو ان مقدمات کو بجا لائے گا اور اسلام کے حکم سے وہی شخص خارج ہو گا، جو کفر کے اجزاء میں سے کسی ایک جزء کا مرتکب ہو گا ماسوائے اس شخص کے جو کفر کے مقدمات کو بجا لاتا ہے اور وہ اقرار اور معرفت اور انکار اور نافرمانی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 5940]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا“ اس کے ذریعے وہ کفر مراد نہیں ہے، جس کی وجہ سے آدمی اسلام سے نکل جاتا ہے بلکہ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی چیز کے مختلف حصے ہوں، تو ان میں سے بعض اجزاء پر اس پوری چیز کے نام کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، جس طرح اسلام کے مختلف شعبے ہیں، تو ان میں سے کسی ایک شعبے کے مرتکب شخص پر بھی لفظ اسلام کا اطلاق کیا جا سکتا ہے، یہ لازم نہیں ہے کہ پورے پر ہی اسلام کا اطلاق کیا جائے اسی طرح کفر کا اطلاق اسلام کے کسی ایک شعبہ کو ترک کرنے والے پر بھی کیا جا سکتا ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ مکمل اسلام کو ترک کرنے والے پر یہ کفر کا اطلاق کیا جائے، تو اسلام اور کفر سے کچھ مقدمات ہیں اسلام کے اجزاء صرف اسی شخص سے قبول کیے جائیں گے جو ان مقدمات کو بجا لائے گا اور اسلام کے حکم سے وہی شخص خارج ہو گا، جو کفر کے اجزاء میں سے کسی ایک جزء کا مرتکب ہو گا ماسوائے اس شخص کے جو کفر کے مقدمات کو بجا لاتا ہے اور وہ اقرار اور معرفت اور انکار اور نافرمانی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 5940]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 121، 4405، 6869، 7080، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 65، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5940، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4142، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3942، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19474» «رقم طبعة با وزير 5910»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض» (927)، «تخريج الإيمان» (86/ 75).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين