صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
5. باب الجنايات - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم " إن دماءكم حرام عليكم " لفظ عام مرادها خاص أراد به بعض الدماء لا الكل-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "تمہارے خون تم پر حرام ہیں" سے مراد عام لفظ ہے لیکن خاص خون مراد ہیں، نہ کہ سب
حدیث نمبر: 5976
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَامَ مَقَامِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" وَالَّذِي لا إِلَهَ غَيْرُهُ، لا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلا فِي إِحْدَى ثَلاثٍ: التَّارِكُ الإِسْلامَ، الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ایسے کسی بھی شخص کا خون بہانا تین میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے، اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا شخص، شادی شدہ زانی اور جان کے بدلے میں جان۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5976]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5945»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4390). تنبيه!! رقم (4390) = (4407) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين