صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. باب الجنايات - ذكر الخبر الدال على أن قوله صلى الله عليه وسلم " إن أموالكم حرام عليكم " أراد به بعض الأموال لا الكل-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "تمہارے اموال تم پر حرام ہیں" سے مراد بعض اموال ہیں، نہ کہ سب
حدیث نمبر: 5978
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَحِلُّ لامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ"، قَالَ ذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر حاصل کرے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کی شدت کی وجہ سے یہ بات بیان کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5978]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5946»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1459).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح