صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. باب الجنايات - ذكر تحريم الله جل وعلا الجنة على القاتل نفسه في حالة من الأحوال-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے کسی بھی حال میں خود کو قتل کرنے والے پر جنت حرام کی
حدیث نمبر: 5988
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الزَّمِنُ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا جُنْدُبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَمَا نَسِينَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا وَلا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ بِرَجُلٍ خُرَّاجٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَأَخَذَ سِكِّينًا فَوْجَأَ بِهَا، فَمَا رَقَأَ الدَّمُ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " عَبْدِي بَادَرَنِي بِنَفْسِهِ، حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ" .
حسن بصری بیان کرتے ہیں: سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی ہمیں اس حدیث کا کوئی حصہ بھولا نہیں ہے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی اور ہمیں یہ اندیشہ نہیں ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے غلط بات بیان کی ہو گی انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم سے پہلے کے زمانے میں کسی شخص کو پھوڑا نکل آیا۔“ اس نے (تکلیف کی شدت کی وجہ سے) چھری لی اور اسے کاٹ دیا اس کا خون نہیں رکا، یہاں تک کہ وہ شخص مر گیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے اپنی ذات کے بارے میں مجھ سے آگے نکلنے کی کوشش کی، تو میں اس کے لیے جنت کو حرام قرار دیتا ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5988]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5956»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (452): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين