صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
24. باب القصاص - ذكر الإخبار عن نفي جناية الأب عن ابنه والابن عن أبيه-
قصاص (بدلہ لینے) کا بیان - ذکر خبر کہ باپ کی جنايت بیٹے سے اور بیٹے کی جنايت باپ سے نہیں اٹھائی جاتی
حدیث نمبر: 5995
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: لا أَدْرِي، قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ، وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُشْبِهُ النَّاسَ، فَإِذَا لَهُ وَفْرَةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، ثُمَّ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا سَاعَةً، قَالَ: " ابْنُكَ هَذَا؟" قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ:" أَمَا إِنَّ ابْنُكَ هَذَا لا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلا تَجْنِي عَلَيْهِ"، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السِّلْعَةِ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ، أَلا أُعَالِجُهَا؟ قَالَ:" طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ: رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ أَبَا رِمْثَةَ هُوَ الْخَشْخَاشُ الْعَنْبَرِيُّ فَقَدْ وَهِمَ.
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے والد نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم میرے والد نے بتایا یہ اللہ کے رسول ہیں جب انہوں نے یہ بات کہی، تو مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی میرا یہ خیال تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں کی طرح شکل و صورت کے نہیں ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لمبے بال تھے جن میں کچھ مہندی لگی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ کچھ بات چیت کرتے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ تمہارا بیٹا ہے میرے والد نے جواب دیا: جی ہاں رب کعبہ کی قسم میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا یہ بیٹا تمہارے کئے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتے گا اور تم اس کے کئے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتو گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ”کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ پھر میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کندھوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ ابھری ہوئی دیکھی تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں حکمت کا کام بھی کرتا ہوں کیا میں اس کا علاج نہ کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا علاج وہ ذات کرے گی، جس نے اسے پیدا کیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام رفاعہ بن یثربی تیمی ہے، یہ تیم رباب سے تعلق رکھتے ہیں، جس شخص نے یہ کہا: ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام خشخاش عنبری ہے اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5995]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام رفاعہ بن یثربی تیمی ہے، یہ تیم رباب سے تعلق رکھتے ہیں، جس شخص نے یہ کہا: ہے کہ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کا نام خشخاش عنبری ہے اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5995]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5963»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «موارد الظمآن» (1522).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم