صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. باب القسامة - ذكر وصف الحكم في القتيل إذا وجد بين القريتين عند عدم البينة على قتله-
قَسامَہ (یعنی خون کے دعوے میں قسمیں دلوانے) کا بیان - ذکر وصف کہ مقتول کے لیے کیا حکم ہے اگر وہ دو دیہاتوں کے درمیان ملے اور اس کے قتل پر کوئی دلیل نہ ہو
حدیث نمبر: 6009
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، حَدَّثَاهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أتيا خيبر في حاجة لهما، فتفرقا، فقتل عبد الله بن سهل، فأتى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَابْنُ عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكُبْرَ الْكُبْرَ"، قَالَ: فَتَكَلَّمَا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَالَ: قَتِيلَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ نَشْهَدْهُ، كَيْفَ نَحْلِفُ عَلَيْهِ؟ قَالَ:" فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ" ، قَالَ سَهْلٌ: فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا، فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكِ الإِبِلِ رَكْضَةً.
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن سہیل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں خیبر آئے، وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر سیدنا عبداللہ قتل ہو گئے، ان کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ان کے چچازاد حویصہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمن بات شروع کرنے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے بڑے کو موقع دو، پہلے بڑے کو موقع دو، پھر ان دونوں نے اپنے ساتھی کے بارے میں گفتگو کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے 50 آدمیوں کی قسم کے ذریعے تم اپنے ساتھی (راوی کو شک ہے یا شاید یہ لفظ ہے) اپنے مقتول (کی دیت) کے مستحق ہو سکتے ہو، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے تو پھر ہم اس پر کیسے حلف اٹھا سکتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودیوں کے 50 آدمی قسم اٹھا کر تم سے بری الذمہ ہو جائیں گے، ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کافر لوگ ہیں۔
راوی بیان کرتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے انہیں دیت ادا کی۔
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں؟ ایک دن میں ان لوگوں کے باڑے میں داخل ہوا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے ٹانگ مار دی۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 6009]
راوی بیان کرتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے انہیں دیت ادا کی۔
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں؟ ایک دن میں ان لوگوں کے باڑے میں داخل ہوا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے ٹانگ مار دی۔
[صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 6009]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5977»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (2677): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم