صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من مجانبة القضايا والأحكام بالنجوم-
- ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ نجوم کے احکام اور فیصلوں سے اجتناب کرے
حدیث نمبر: 6129
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟" قَالُوا: كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، وَمَاتَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّهَا لا تُرْمَى لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ، فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَيَخْطَفُ الْجِنُّ، فَيُلْقُونَهُ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيُرْمَوْنَ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ أَوْ يَزِيدُونَ"، الشَّكُّ مِنْ مُبَشِّرٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاری صحابہ میں سے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران کوئی ستارا ٹوٹا اور روشنی سی نظر آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے دریافت کیا جب اس طرح کا کوئی ستارا ٹوٹتا تھا، تو تم لوگ زمانہ جاہلیت میں کیا سمجھتے تھے۔ لوگوں نے عرض کی: ہم یہ کہتے تھے کہ آج رات کوئی بڑا آدمی پیدا ہو گا یا کوئی بڑا آدمی فوت ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کے مرنے یا پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتے ہیں بلکہ ہمارا پروردگار جب کوئی فیصلہ سناتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح بیان کرتے ہیں تو اس کے بعد والے فرشتے تسبیح بیان کرتے ہیں، یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچ جاتی ہے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے قریب جو فرشتے ہوتے ہیں (یعنی ساتویں آسمان کے فرشتے) وہ دریافت کرتے ہیں ہمارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے، تو (عرش کو اٹھانے والے فرشتے) انہیں اس بارے میں بتاتے ہیں اسی طرح تمام آسمان کے فرشتے دوسرے آسمان والوں کو اس بارے میں اطلاع دیتے ہیں، یہاں تک کہ آسمان دنیا تک یہ بات پہنچ جاتی ہے تو کوئی جن اسے اچک لیتا ہے اور اپنے دوستوں کی طرف اسے القاء کر دیتا ہے وہ اس میں ملاوٹ بھی کر دیتا ہے، تو جب (کسی کاہن کی کہی ہوئی بات) درست ثابت ہوتی ہے تو وہ حق کی وجہ سے ہوتی ہے، تاہم وہ لوگ اس میں اور بہت سے جھوٹ شامل کر دیتے ہیں (اس لیے ان کی بہت سی باتیں غلط بھی ثابت ہوتی ہیں)۔
یہاں مبشر نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: وہ اس بات میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النُّجُومِ وَالأَنْوَاءِ/حدیث: 6129]
یہاں مبشر نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: وہ اس بات میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النُّجُومِ وَالأَنْوَاءِ/حدیث: 6129]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6096»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (7/ 36 - 37).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم