🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. باب بدء الخلق - ذكر وصف دفن أبي رغال سيد ثمود-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ ثمود کے سردار ابو رغال کی تدفین کیسے ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6198
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ بُجَيْرِ بْنِ أَبِي بُجَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ،" أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، " فَمَرُّوا عَلَى قَبْرِ أَبِي رِغَالٍ، وَهُوَ أَبُو ثَقِيفٍ، وَهُوَ امْرُؤٌ مِنْ ثَمُودَ، مَنْزِلُهُ بِحَرَّاءَ، فَلَمَّا أَهْلَكَ اللَّهُ قَوْمَهُ بِمَا أَهْلَكَهُمْ بِهِ، مَنَعَهُ لِمَكَانِهِ مِنَ الْحَرَمِ، وَأَنَّهُ خَرَجَ، حَتَّى إِِذَا بَلَغَ هَا هُنَا، مَاتَ، فَدُفِنَ مَعَهُ غُصْنٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَابْتَدَرْنَا، فَاسْتَخْرَجْنَاهُ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ان لوگوں کا گزر ابورغال کی قبر سے ہوا جو ثقیف قبیلے کا جدِ امجد تھا، یہ ایک ایسا شخص تھا جو قومِ ثمود سے تعلق رکھتا تھا، اس کی رہائش گاہ حرم کے مقام پر تھی، جب اللہ تعالیٰ نے اس کی قوم کو ہلاکت کا شکار کر دیا تو وہ ہلاکت کا شکار نہیں ہوا کیونکہ وہ حرم میں رہائش پذیر تھا، پھر وہ وہاں سے نکلا، جب وہ یہاں پہنچا تو یہاں اس کا انتقال ہو گیا، اس کے ہمراہ سونے کی ایک ٹہنی کو دفن کیا گیا۔ (راوی کہتے ہیں:) ہم تیزی سے وہاں گئے اور سونے کی ٹہنی کو نکال لیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6198]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6198، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3088، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7746» «رقم طبعة با وزير 6165»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (4736)، «ضعيف أبي داود» (555).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں