🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

188. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به إبراهيم عن الأعمش-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف ابراہیم نے اعمش سے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6331
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ:" ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِِلَى الشَّامِ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا، فَقَعَدَ إِِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ:" مِمَّنْ أَنْتَ؟"، قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ:" أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ حُذَيْفَةُ؟ أَلَيْسَ فِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ؟ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السَّوَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ؟، وَقَالَ: كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2"، فَقُلْتُ: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، قَالَ:" فَمَا زَالَ هَؤُلاءِ كَادُوا يُشَكِّكُونِي وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ علقمہ رحمہ اللہ شام گئے، وہ وہاں مسجد میں آئے، وہاں انہوں نے دو رکعات ادا کیں، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا» اے اللہ! مجھے نیک ہم نشین عطا کر۔ پھر وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: کوفہ سے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص راز دان موجود نہیں ہیں کہ اس راز کا ان کے علاوہ کسی کو پتا نہیں ہوتا تھا اور وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں؟ کیا تمہارے درمیان وہ صاحب موجود نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا اور وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں؟ کیا تمہارے درمیان سیاہی والے شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں ہیں؟ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم یہ آیت ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى * وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى﴾ [سورة الليل: 1-2] کیسے پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ﴿وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى﴾ [سورة الليل: 3] ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ مسلسل مجھے اس بارے میں شبہ کا شکار کرتے رہے ہیں حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود یہ آیت ﴿وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى﴾ [سورة الليل: 3] سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6331]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3287، 3742، 3743، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 824، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6330، 6331، 7127، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5424، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8241، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2939، وأحمد فى (مسنده) برقم: 28182، والحميدي فى (مسنده) برقم: 400» «رقم طبعة با وزير 6297»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري رجاله ثقات رجال الشيخين غير حفص بن عمر الحوضي فمن رجال البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں