🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

350. باب المعجزات - ذكر ما حال الله جل وعلا بين صفيه صلى الله عليه وسلم وبين المشركين فيما قصدوه به-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ان کے ارادوں سے روک دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6502
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا بِاللاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِِسَافٍ: لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا، لَقُمْنَا إِِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَؤُلاءِ الْمَلأُ مِنْ قَوْمِكَ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ، لَوْ قَدْ رَأَوْكَ، قَامُوا إِِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِِلا عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ، قَالَ: يَا بُنَيَّةُ،" إِِيتِينِي بِوَضُوءٍ"، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: هَا هُوَ ذَا، هَا هُوَ ذَا، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِِلَيْهِ بَصَرًا، وَلَمْ يَقُمْ إِِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، وَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ، ثُمَّ حَصَبَهُمْ، فَمَا أَصَابَ رَجُلا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِِلا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قریش کے کچھ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے لات، عزیٰ، مناۃ، نائلہ اور اساف (نامی بتوں) کے نام پر قسم اٹھا کر یہ معاہدہ کیا کہ اگر ہم نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ہم ایک ساتھ ہو کر ان کے سامنے آئیں گے اور ان سے اس وقت تک الگ نہیں ہوں گے جب تک انہیں شہید نہیں کر دیتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی آئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: آپ کی قوم کے ان لوگوں نے آپ کے خلاف یہ طے کیا ہے کہ جب وہ آپ کو دیکھیں گے تو آپ کے مدمقابل کھڑے ہوں گے اور آپ کو شہید کر دیں گے، اس طرح ان میں سے ہر ایک فرد آپ کے خون میں سے اپنے حصے کو حاصل کر لے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! تم میرے پاس وضو کے لیے پانی لے کر آؤ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد (حرام یعنی خانہ کعبہ کے قریب) تشریف لائے، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ بولے: یہ وہی ہیں، یہ وہی ہیں، پھر انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا دیں اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں سے لگ گئیں، ان میں سے کسی نے بھی نگاہ اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا اور ان میں سے کوئی بھی شخص اٹھ کر آپ کے سامنے نہیں آیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی میں مٹی لی اور فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» (ان لوگوں کے) چہرے بگڑ جائیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان پر پھینکی تو اس مٹی کی جو بھی کنکری ان میں سے جس بھی شخص تک پہنچی وہ غزوہ بدر کے دن مارا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6502]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6502، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 587، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2913، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2806، 3554» «رقم طبعة با وزير 6468»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «تخريج فقه السيرة» (228)، «الصحيحة» (2824).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں