🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

397. باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم إنذار عشيرته بما مثل به-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قریبی قوم کو انذار کی مثال ایسی دی جو انہوں نے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6550
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، قَالَ: وَهُنَّ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَادَى:" يَا صَبَاحَاهُ"، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِِلَيْهِ، فَبَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي، يَا بَنِي، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًَا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَصَدَّقْتُمُونِي؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ"، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَمَا دَعَوْتُمُونَا إِِلا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1، وَقَدْ تُبَّ ، وَقَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ نازل ہوئی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ» اور ان میں سے اپنے مخلص گروہ کو (ڈراؤ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صفا پہاڑ کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر چڑھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: «يَا صَبَاحَاهْ!» خطرہ ہے! تو لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے، کوئی شخص خود آگیا اور کسی نے اپنے قاصد کو بھیج دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبدالمطلب! اے بنو فہر! اے بنو عبدمناف! اے بنو (فلاں)! اے بنو (فلاں)! تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اس بات کی اطلاع دوں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ تو میں شدید عذاب سے پہلے تمہیں ڈرا رہا ہوں۔ اس پر ابولہب نے کہا: تم ہمیشہ کے لیے برباد ہو جاؤ! کیا تم نے ہمیں صرف اس کام کے لیے بلایا تھا؟ پھر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا (اور چلا گیا) اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں تو وہ برباد ہو گیا۔ البتہ دوسرے لوگوں نے یہ کہا تھا: ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6550]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1394، 2752، 3525، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 208، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6550، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10752، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3363، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13227، 17798، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2585» «رقم طبعة با وزير 6516»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «فقه السيرة» (96)، «الصحيحة» (3177): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں