صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
414. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر بعض أذى المشركين رسول الله صلى الله عليه وسلم عند دعوته إياهم إلى الإسلام-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی دعوت دینے پر کچھ ایذاء دی
حدیث نمبر: 6567
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَكْثَرُ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ؟، قَالَ: قَدْ حَضَرْتُهُمْ وَقَدِ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ فِي الْحِجْرِ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ، سَفَّهَ أَحْلامَنَا، وَشَتَمَ آبَاءَنَا، وَعَابَ دِينَنَا، وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِهَتَنَا، لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ، أَوْ كَمَا قَالُوا، فَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، فَمَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ، غَمَزُوهُ بِبَعْضِ الْقَوْلِ، قَالَ: وَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِمُ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ مَضَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَرَّ بِهِمُ الثَّالِثَةَ، غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَتَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ"، قَالَ: فَأَخَذَتِ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِِلا لَكَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ، حَتَّى إِِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَطْأَةً قَبْلَ ذَلِكَ يَتَوَقَّاهُ بِأَحْسَنِ مَا يُجِيبُ مِنَ الْقَوْلِ، حَتَّى إِِنَّهُ لَيَقُولُ: انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، انْصَرِفْ رَاشِدًا، فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولا، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ، حَتَّى إِِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ، وَبَيْنَا هُمْ فِي ذَلِكَ، إِِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَثَبُوا إِِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، وَأَحَاطُوا بِهِ، يَقُولُونَ لَهُ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ؟، قَالَ:" نَعَمْ، أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ، وَقَالَ: وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي: أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ؟! ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ، فَإِِنَّ ذَلِكَ لأَشُدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ .
یحییٰ بن عروہ اپنے والد (عروہ) کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عداوت کے اظہار کے لیے جو کچھ کیا اس میں آپ نے سب سے زیادہ (شدت والی) کیا چیز دیکھی؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ایک مرتبہ میں ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا، ان کے معززین حطیم میں موجود تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: ہم نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر ہمیں اتنا صبر سے کام لینا پڑا ہو جتنا اس شخص کے حوالے سے لینا پڑ رہا ہے؛ انہوں نے ہمارے سمجھ دار لوگوں کو بے وقوف قرار دیا، ہمارے آباؤ اجداد کو برا کہا، ہمارے دین کو غلط قرار دیا، ہماری اجتماعیت کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور ہمارے معبودوں کو برا کہا؛ ہم نے ان کی طرف سے ایک بڑے معاملے پر صبر سے کام لیا ہے، یا جیسے بھی انہوں نے کہا۔ ابھی وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازے کسے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر (ناپسندیدگی) کا اندازہ ہو گیا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آوازے کسے، جس کے (ملال) کا اندازہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہو گیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری مرتبہ ان کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے پھر اسی طرح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قریش کے گروہ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں تمہارے پاس ذبح «جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ» ”ذبح (کی خبر)“ کے ہمراہ آیا ہوں۔“ (یعنی تم سب لوگ مارے جاؤ گے)۔ یہ سن کر انہیں سانپ سونگھ گیا، یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک شخص کی یہ حالت ہو گئی جیسے اس کے سر پر پرندہ بیٹھا ہوا ہے، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طرف سے اس سے پہلے بھی شدید صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نرمی سے جواب دیا کرتے تھے۔ (اتنا سخت جواب سن کر) انہوں نے یہ کہا: اے ابوالقاسم! آپ تشریف لے جائیے، آپ ایسی حالت میں تشریف لے جائیے کہ آپ رہنمائی کرنے والے ہوں۔ اللہ کی قسم! آپ تو جہالت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔ (یعنی کلام میں شدت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو وہ لوگ پھر حطیم میں اکٹھے ہوئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تمہیں یاد ہے تم نے انہیں کیا بات کہی تھی اور انہوں نے تمہیں کیا بات کہی تھی؟ یہاں تک کہ جب انہوں نے تمہارے سامنے اس چیز کو ظاہر کیا جو تمہیں پسند نہیں آئی تو پھر تم نے انہیں چھوڑ دیا؟ ابھی یہ لوگ یہی باتیں کر رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو وہ سب مل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا آپ ہی نے یہ بات کہی تھی اور یہ بات کہی تھی؟ یعنی وہ باتیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پہنچی تھیں کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کو غلط قرار دیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں نے یہ بات کہی تھی۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہوئے، وہ رو رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کر رہے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے؟“ پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) قریش کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برے سلوک کی یہ سب سے سخت صورت حال تھی جو میں نے دیکھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6567]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3678، 3856، 4815، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6567، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17801، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7027» «رقم طبعة با وزير 6533»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر التعليق. * [ابْنِ إِسْحَاقَ] قال الشيخ: هو محمد بن إِسحاق، صاحب «السيرة»، وهو مُدَلِّسٌ، ولكنَّه صَرَّحَ بالتحديث؛ فالإسناد حسنٌ لأنَّ بَقِيَّةَ الرجال ثقات، رجال الشيخين؛ غير عبد الحميد - ويقال: عبد؛ بغير إضافة -، وهو ثقةٌ من رجال مسلم. وهو في «السيرة» لابن هشام من هذا الوجه. ومن طريقه: أحمد (2/ 218). ثُمَّ أَخْرَجَه (2/ 204)، والبخاري (3678) من طريق مُحمَّد بن إِبراهِيم، عن عُروة بن الزبير ... به مُختَصراً بقصَّة الإيذاء، ودفع أبي بكر عنه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null