صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
589. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف قتال المسلمين الترك بأرض النخل-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ نخیلی زمین پر ترکوں سے مسلمانوں کے قتال کی وصف
حدیث نمبر: 6748
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَنْزِلُونَ بِحَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ، عِنْدَهَا نَهْرٌ يُقَالُ لَهُ دِجْلَةُ، يَكُونُ لَهُمْ عَلَيْهَا جِسْرٌ، وَيَكْثُرُ أَهْلُهَا، وَيَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ، أَقْوَامٌ عِرَاضُ الْوجُوهِ، حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَاطِئِ النَّهْرِ، فَيَفْتَرِقُ أَهْلُهَا عَلَى ثَلاثِ فِرَقٍ، فَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ أَذْنَابَ الإِِبِلِ وَالْبَرِّيَّةِ فَيَهْلِكُونَ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَأْخُذُونَ لأَنْفُسِهِمْ وَيَكْفُرُونَ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ، وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری امت کے کچھ لوگ ایک باغ میں پڑاؤ کریں گے جس کا نام بصرہ ہوگا، اس کے پاس ایک دریا ہوگا جس کا نام دجلہ ہوگا، اس پر ایک پل ہوگا، وہاں کے رہنے والے لوگ زیادہ ہوں گے اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہوگا، جب آخری زمانہ آئے گا تو بنو قنطوراء آئیں گے، یہ وہ قوم ہے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ دریا کے ایک کنارے پر پڑاؤ کریں گے، تو وہاں کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے؛ ایک گروہ اونٹوں کی دم اور جانوروں کی دم پکڑے گا، وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے، ایک گروہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے گا اور کفر کرے گا، اور ایک گروہ اپنے بال بچوں کو اپنی پشت کے پیچھے رکھے گا اور وہ ان کے ساتھ لڑائی کرے گا، یہ لوگ شہداء ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6748]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6748، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4306، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20741» «رقم طبعة با وزير 6713»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «المشكاة» (5432).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null