🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

629. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر العلامة الثالثة التي تظهر في العرب عند خروج الدجال من وثاقه كفانا الله وكل مسلم شره وفتنته-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر تیسری علامت جو عربوں میں دجال کے بندھن سے نکلنے پر ظاہر ہوگی، اللہ ہمیں اور ہر مسلمان کو اس کے شر اور فتنے سے بچائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6788
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرْقُسَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُمِّيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أُنْذِرُكُمُ الدَّجَّالَ، فَإِِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِِلا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ، وَهُوَ كَائِنٌ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الأُمَّةُ، إِِنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي وَلا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ، أَلا إِِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنَ عَمٍّ لَهُ وَأَصْحَابَهُ رَكِبُوا بَحْرَ الشَّامِ، فَانْتَهَوْا إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِهِ، فَإِِذَا هُمْ بِدَهْمَاءَ تَجُرُّ شَعْرَهَا، قَالُوا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: الْجَسَّاسَةُ أَوِ الَجَاسِسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ عَنْ شَيْءٍ وَلا سَائِلَتِكُمْ عَنْهُ، وَلَكِنِ ائْتُوا الدَّيْرَ، فَإِِنَّ فِيهِ رَجُلا بِالأَشْوَاقِ إِِلَى لِقَائِكُمْ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ، فَإِِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ إِِلَى سَارِيَةٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟ وَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتِ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: خَرَجَ فِيهِمْ نَبِيٌّ بِأَرْضِ تَيْمَاءَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ النَّاسُ؟ قَالُوا: فِيهِمْ مَنْ صَدَّقَهُ، وَفِيهِمْ مَنْ كَذَّبَهُ، قَالَ: أَمَا إِِنَّهُمْ إِِنْ يُصَدِّقُوهُ وَيَتَّبِعُوهُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بُيُوتُكُمْ؟ قَالُوا: مِنْ شَعَرٍ وَصُوفٍ تَغْزِلُهُ نِسَاؤُنَا، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ طَبَرِيَّةَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ جَوَانِبُهَا يَصْدُرُ مَنْ أَتَاهَا، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قَالُوا: يُؤْتِي جَنَاهُ فِي كُلِّ عَامٍ، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَيْهَاتَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِِنِّي لَوْ قَدْ حُلِلْتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا لَمْ يَبْقَ مَنْهَلٌ إِِلا وَطِئْتُهُ إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَإِِنَّهُ لَيْسَ لِي عَلَيْهِمَا سَبِيلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ طَيْبَةُ، حَرَّمْتُهَا كَمَا حَرَّمَ إِِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا فِيهَا نَقْبٌ فِي سَهْلٍ وَلا جَبَلٍ إِِلا وَعَلَيْهِ مَلَكَانِ شَاهِرَا السَّيْفِ يَمْنَعَانِ الدَّجَّالَ إِِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو دجال سے ڈرا رہا ہوں، مجھ سے پہلے کے ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے اور وہ تمہارے درمیان ظہور پذیر ہو گا، اے امت! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اور امت نہیں ہے، البتہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ ان کے چچازاد اور ان کے ساتھی شام کے سمندر میں سفر کر رہے تھے، وہ کسی جزیرے تک پہنچ گئے، وہاں ایک عورت تھی جو اپنے بال کھینچ رہی تھی، ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جساسہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جاسسہ۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی کسی چیز کے بارے میں تم سے دریافت کروں گی، لیکن تم لوگ عبادت خانے میں چلے جاؤ، وہاں ایک شخص ہے جو تم سے ملاقات کا مشتاق ہے، وہ لوگ عبادت خانے میں آئے تو وہاں ایک شخص تھا جس کی آنکھ کانی تھی، وہ لوہے کی زنجیروں میں ستون کے ساتھ بندھا ہوا تھا، اس نے دریافت کیا: تم لوگ کہاں سے آئے ہو، تم لوگ کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: اہل شام سے۔ اس نے دریافت کیا: تم لوگ کون ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم عربی ہیں۔ اس نے کہا: عربوں کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: ان میں ایک نبی کا ظہور ہوا ہے جو تیماء کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے ان کی تصدیق کی ہے اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہیں غلط قرار دیا ہے، تو اس نے کہا: اگر وہ ان کی تصدیق کر دیں اور ان کی پیروی کریں، تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اگر انہیں علم ہو، پھر اس نے دریافت کیا: تمہارے گھر کس چیز کے ہیں؟ ان لوگوں نے بتایا: بالوں کے اور اون کے بنے ہوئے جنہیں ہماری عورتیں تیار کرتی ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے زانو پر مارا پھر بولا: یہی۔ پھر اس نے دریافت کیا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلک رہے ہیں، اس نے اپنے زانو پر ہاتھ مارا پھر بولا: جلدی کرو، پھر اس نے دریافت کیا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلکتے ہیں، جو اس تک آتا ہے وہ سیر ہوتا ہے، تو اس نے اپنے زانو پر ہاتھ مارا اور پھر بولا: جلدی کرو، پھر اس نے دریافت کیا: بیسان کے نخلستان کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے کہا: اس کی ٹہنیاں سارا سال پھل دیتی ہیں، اس نے پھر اپنے زانو پر ہاتھ مارا اور بولا: جلدی کرو، پھر اس نے کہا: اگر میں اپنی ان بیڑیوں سے آزاد ہو گیا تو کوئی چشمہ ایسا نہیں ہو گا جسے میں روند نہ دوں، البتہ مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میرے لیے وہاں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے، میں اسے اسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، عام زمین اور پہاڑوں میں اس میں داخلے کا جو بھی راستہ ہے اس پر دو فرشتے تعینات ہیں جنہوں نے تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور وہ قیامت کے دن تک دجال کو (اس میں داخل ہونے سے) روکنے کے لیے (تیار رہیں گے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6788]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3730، 6787، 6788، 6789، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4244، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4074، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27743» «رقم طبعة با وزير 6750»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره. تنبيه هام!! وقع لقب الراوي «عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ» في «طبعة باوزير»: «القيسي» بدلا من «الْقُمِّيُّ» وكتب الشيخ تعليقا على هذه اللفظة فقال: [في «طبعة المؤسسة»: «القمي»، وفي «الثقات» (7/ 241): «القبي»! فلعلَّه: «القيسي»؛ كما وقع في «المعجم الكبير» للطبراني (24/ 391)، وروى عنه حفصُ بن غَياثٍ. وقد تُوبِعَ من جمع على رواية الحديث؛ مِنْ قَولِه: «إِنَّ تَمِيماً ... » إلخ. رواه مسلم (8/ 203 - 206)، والمصنِّفُ عقب هذا، وأحمد (6/ 373 - 374 و 412 و 413 و 416 - 418 و 418)، والحميدي (رقم 364)، والطبراني (24/ 385 - 403)، والبغوي في «شرح السنة» (15/ 65 - 68)، وعنده من رواية عمران هذه. وقد عزاهُ المُعَلِّقُ عليه لمسلم! فَوَهِمَ؛ لأنَّهُ لم يَرْوِهِ بالزيادة الَّتي في أوَّلِهِ؛ كما تَقَدَّمَتِ الإشارةُ إلى ذلك آنفاً. وزاد الحميدي في روايته: «من نحو المشرق ما هو، من نحو المشرق ما هو ... ». وهو رواية لمسلم (8/ 205)، والطبراني (ص 388 و 395)، وكذا ابن أبي شيبة (15/ 189 - 191)، وأبي عمرو الدانيِّ في «الفتن» (ق 122/ 1 - 125/ 1)، والطحاوي في «المشكل» (4/ 100). وسنده لا بأس به. ] - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح عبد الملك بن سليمان القرقساني ذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 39، وقال: مستقيم الحديث، وقال العقيلي في "الضعفاء" 3/ 24: حديثه غير محفوظ، وعمران بن سليمان لقمي ذكره المؤلف في "الثقات" 7/ 241، وكذا البخاري ف تاريخه 6/ 426، وابن أبي حاتم 6/ 299، ولم يذكرا فيه جرحا ولا تعديلا.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6789
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ الصَّلاةُ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ نَزَلَتْ، وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ، فَقَذَفَتْهُمُ الرِّيحُ إِِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لا يُدْرَى أَذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى مِنْ كَثْرَةِ الشَّعْرِ، فَقَالُوا: مَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: أَخْبِرِينَا؟ قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ، وَلَكِنَّ هَا هُنَا مَنْ هُوَ فَقِيرٌ إِِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَإِِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ، فَأَتَوَا الدَّيْرَ، فَإِِذَا بِرَجُلٍ مَرِيرٍ مُصَفَّدٍ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْعَرَبُ، قَالَ: هَلْ بُعِثَ النَّبِيُّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تَبِعَتْهُ الْعَرَبُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ قَالُوا: لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا، قَالَ: أَمَا إِِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ؟ قَالُوا: تَدَفَّقُ مَلأَى، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ؟ قَالُوا: قَدْ أَطْعَمَ أَوَائِلُهُ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ وَثْبَةً، حَتَّى خَشِينَا أَنْ سَيَغْلِبَ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، أَمَا إِِنِّي سَأَطَأُ الأَرْضَ كُلَّهَا إِِلا مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرُوا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، هَذِهِ طَيْبَةُ لا يَدْخُلُهَا" .
امام شعبی سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ: اکٹھے ہو جاؤ، تو لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہیں کسی رغبت یا کسی پریشانی کے نازل ہونے کی وجہ سے نہیں بلایا ہے، البتہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، تو ہوا نے انہیں سمندر میں موجود کسی جزیرے تک پہنچا دیا، وہاں ایک جانور موجود تھا جس کا یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ وہ مذکر ہے یا مؤنث ہے کیونکہ اس کے جسم پر بال بہت زیادہ تھے، تو میں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں «الْجَسَّاسَةُ» جساسہ ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ، تو اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کروں گی، البتہ وہاں ایک شخص ہے جو اس بات کا محتاج ہے کہ وہ تمہیں کوئی اطلاع دے اور اس بات کا بھی ضرورت مند ہے کہ تم سے کسی چیز کے بارے میں معلوم کرے، تو وہ اس عبادت خانے تک آئے، وہاں ایک شخص تھا جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ہم عرب ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے ہیں؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا عربوں نے ان کی پیروی کر لی ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: یہ ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے، پھر اس نے دریافت کیا: اہل فارس کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ ابھی اس پر غالب نہیں آئے۔ اس نے کہا: وہ عنقریب اہل فارس پر غالب آ جائیں گے، پھر اس نے دریافت کیا: «زُغَرَ» زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: «بَيْسَانَ» بیسان کے نخلستان کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: وہ پیداوار دے رہا ہے، پھر وہ شخص اچھلا، یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ غالب آ جائے گا (یعنی اپنے آپ کو چھڑا لے گا)، ہم نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں، میں ساری روئے زمین کو روند دوں گا البتہ مکہ اور «طَيْبَةُ» طیبہ (نہیں جا سکوں گا)۔ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے گروہ! تمہیں خوشخبری ہے کہ یہ (مدینہ منورہ) «طَيْبَةُ» طیبہ ہے، وہ (دجال) اس میں داخل نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6789]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3730، 6787، 6788، 6789، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4244، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4325، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4074، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27743» «رقم طبعة با وزير 6751»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «قصة المسيح - عليه السلام -» (ص 42 - 43): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں