صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَقْعُدُ فِي مَكَانِهِ:
باب: جمعہ کے دن کسی مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔
حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَقْعَدِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ"، قُلْتُ لِنَافِعٍ: الْجُمُعَةَ، قَالَ: الْجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی رحمہ اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ کیا یہ جمعہ کے لیے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جمعہ اور غیر جمعہ سب کے لیے یہی حکم ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 911]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھ جائے۔“ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ یہ حکمِ امتناعی جمعہ کے لیے خاص ہے؟ انہوں نے کہا: جمعہ اور غیر جمعہ دونوں کے لیے یہی حکم ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجُمُعَةِ/حدیث: 911]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة