صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
264. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر حذيفة بن اليمان رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7125
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُ مَعَهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ، لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟"، قَالَ: فَسَكَتْنَا، فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: " أَلا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ، جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَسَكَتْنَا، فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: فَسَكَتْنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلا تَذْعَرْهُمْ"، فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ، حَتَّى أَتَيْتُهُمْ، فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يُصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ، فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَذْعَرْهُمْ"، وَلَوْ رَمَيْتُهُ لأَصَبْتُهُ، فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلَ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا، فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا نَوْمَانُ".
ابراہیم تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ایک شخص بولا: اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہوتا تو میں آپ کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیتا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ایسا کرنا تھا؟ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہم لوگ غزوہ احزاب کے موقع پر صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تیز آندھی چل پڑی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص دشمن کی اطلاع ہمارے پاس لے کر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے میرے ساتھ رکھے گا۔ راوی کہتے ہیں، تو ہم لوگ خاموش رہے ہم میں سے کسی نے بھی آپ کو جواب نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص ہمارے پاس دشمن کی اطلاع لے کر آئے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے میرے ساتھ رکھے گا۔ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ خاموش رہے ہم میں سے کسی نے بھی آپ کو جواب نہیں دیا پھر ہم خاموش رہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ تم اٹھو اور ہمارے پاس دشمن کی اطلاع لے کر آؤ اور تم انہیں بھڑکانا نہیں (یا ان سے مقابلہ نہ کرنا) جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر روانہ ہوا تو یوں لگ رہا تھا جیسے (تیز ہوا میں نہیں) بلکہ حمام میں چل رہا ہوں، یہاں تک کہ میں دشمن کے پاس آیا میں نے ابوسفیان کو دیکھا کہ وہ اپنی پشت کو آگ کے ذریعے گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا پہلے میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے تیر مارتا ہوں پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آیا کہ تم نے ان کے ساتھ جھگڑنا نہیں ہے، اگر میں اسے تیر مار دیتا تو وہ تیر اسے لگ جانا تھا، لیکن میں واپس آ گیا یوں جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو ان لوگوں کے حالات کے بارے میں بتایا، تو آپ نے اپنے جسم پر موجود اضافی عبا مجھے پہنا دی جس میں آپ نماز ادا کیا کرتے تھے اس کے بعد میں سویا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی جب صبح ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے سوئے ہوئے تم بیدار ہو جاؤ۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7125]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7081»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين