صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
300. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر عبد الله بن سلام رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7161
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاثِ خِصَالٍ لا يَعْلَمُهُنَّ إِلا نَبِيٌّ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ"، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَمْرِ السَّاعَةِ، أَوْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ وَمِمَّ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِهِنَّ آنِفًا"، قَالَ: جِبْرِيلُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلائِكَةِ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَوْ أَمْرِ السَّاعَةِ، نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ تَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا مَا يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أُمِّهِ"، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتَةٌ، اسْتَنْزِلْهُمْ، وَسَلْهُمْ أَيُّ رَجُلٍ أَنَا فِيهِمْ قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلامِي، فَجَاءَ مِنْهُمْ رَهْطٌ، فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ؟" قَالُوا: خَيْرُنَا، وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا، وَابْنُ سَيِّدِنَا، وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟"، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا ، قَالَ: يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ: هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ان چیزوں کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دریافت کرو۔ انہوں نے عرض کی: قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے اور وہ کون سی چیز ہے جو بچے کو اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے (جس کی وجہ سے بچہ ماں یا باپ سے مشابہت رکھتا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان چیزوں کے بارے میں ابھی جبرائیل نے مجھے بتایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: جبرائیل نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: فرشتوں میں سے وہ تو یہودیوں کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کی سب سے پہلی نشانی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) وہ آگ ہو گی جو مشرق کی طرف سے نکلے گی اور لوگوں کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ ہو گا، اور جو چیز بچے کو اس کے باپ یا ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے، تو جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ باپ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، جب عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ ماں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی ایک ایسی قوم ہے جو بہتان تراشی کرتے ہیں آپ انہیں بلوائیں اور ان سے دریافت کیجئے میں ان کے درمیان کیسا شخص ہوں اس سے پہلے کہ انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہو جائے پھر یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: عبداللہ بن سلام کیسا شخص ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ہمارے سب سے بہتر شخص اور ہمارے سب سے بہتر شخص کے صاحب زادے ہیں اور وہ ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں وہ ہمارے سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر وہ اسلام قبول کر لے تو پھر تمہاری کیا رائے ہو گی۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز سے بچائے۔ راوی کہتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن سلام نکل کر ان کے سامنے آئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ان یہودیوں نے کہا: آپ ہمارے سب سے برے شخص اور سب سے زیادہ برے شخص کے صاحب زادے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اسی بات کا اندیشہ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7161]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7117»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3329 و 3938 و 4480)، وسيأتي (7380) أتم منه من طريق ثابت وحميد. تنبيه!! رقم (7380) = (7423) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
حدیث نمبر: 7162
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ النَّخَعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عِيدِهِمْ، وَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، أَرُونِي اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يُحْبِطُ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي غَضِبَ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَأَمْسَكُوا وَمَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ:" أَبَيْتُمْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَنَا الْحَاشِرُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَأَنَا الْمُقَفِّي، آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ"، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَنَا أَنْ يَخْرُجَ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِنَا يَقُولُ: كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَقَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ: أَيُّ رَجُلٍ تَعْلَمُونِي فِيكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ؟ قَالُوا: مَا نَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ فِينَا رَجُلٌ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَلا أَفْقَهُ مِنْكَ، وَلا مِنْ أَبِيكَ مِنْ قَبْلِكَ، وَلا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ لَهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَهُ فِي التَّوْرَاةِ، قَالُوا: كَذَبْتَ، ثُمَّ رُدُّوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا لَهُ شَرًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبْتُمْ، لَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ، أَمَّا آنِفًا، فَتُثْنُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا أَثْنَيْتُمْ، وَأَمَّا إِذَا آمَنَ كَذَّبْتُمُوهُ، وَقُلْتُمْ مَا قُلْتُمْ، فَلَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ"، قَالَ: فَخَرَجْنَا، وَنَحْنُ ثَلاثَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے میں آپ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ میں موجود یہودیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہوئے یہ ان کے عید کے دن کی بات ہے انہیں ہمارا ان کے ہاں جانا اچھا نہیں لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے یہودیوں کے گروہ مجھے ایسے بارہ آدمی دکھاؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، تو اللہ تعالیٰ آسمان کے نیچے موجود یہودی پر کیے گئے غضب کو اٹھا لے گا جو غضب اس نے ان پر کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں، تو وہ لوگ چپ رہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان کے سامنے یہ بات دہرائی تو پھر کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہ بات دہرائی تو پھر کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ یہ بات نہیں مانتے اللہ کی قسم میں حاشر ہوں اور میں عاقب ہوں اور میں مقفی ہوں خواہ تم لوگ ایمان لاؤ یا جھٹلاؤ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے میں آپ کے ساتھ تھا، یہاں تک کہ ابھی آپ ان کی عبادت گاہ سے باہر نکلنے لگے تھے کہ اسی دوران ہمارے پیچھے سے ایک شخص نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم رک جائیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر اس شخص نے کہا: اے یہودیوں کے گروہ تم لوگ اپنے درمیان مجھے کیسا جانتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں ایسے کسی شخص کا علم نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہو اور وہ اللہ کی کتاب کا آپ سے بڑا عالم ہو یا اس کے بارے میں آپ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور نہ ہی ہمیں کسی ایسے شخص کے بارے میں علم ہے، جو اس سے پہلے آپ کے والد سے زیادہ بڑا عالم ہو اور آپ کے والد سے پہلے آپ کے دادا سے زیادہ بڑا عالم ہو، تو اس شخص نے کہا: میں ان صاحب کے بارے میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو، تو ان لوگوں نے کہا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو پھر ان لوگوں نے ان صاحب کی بات کو مسترد کر دیا اور ان کے بارے میں بری باتیں کہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جھوٹ کہہ رہے ہو تمہاری بات کو قبول نہیں کیا جائے گا ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے بھلائی کے حوالے سے اس شخص کی تعریفیں بیان کی ہیں اور اب جب یہ ایمان لے آیا ہے تو تم نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس اس طرح کی باتیں کی ہیں تو تمہارے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: جب ہم وہاں سے باہر نکلے تو ہم تین افراد تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، میں اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”تم یہ فرما دو: تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7162]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7118»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: إسناده صحيح، وصححه الحاكم، والذهبي، والسيوطي في «الدر المنثور» (6/ 39). ولنزول الآية في عبد الله بن سلام شاهد من حديث سعد الآتي بعد هذا في رواية البخاري وغيره. وقد استشكل ذلك؛ لأن ابن سلام أسلم في المدينة، والآية مكية فيما قيل، وأجاب عنه الحافظ في «الفتح» (7/ 130)، والآلوسي في «تفسيره» (26/ 12 - 13)؛ فليراجعهما من شاء، ولا ينبغي رد ما صح بالإشكال. وله شاهدان آخران عند ابن جرير.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح