المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً
میری امت کے تہتر فرقوں میں بٹنے کی خبر
حدیث نمبر: 10
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا أبو عمّار، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تَفرَّقَت اليهودُ على إحدى وسبعين فِرقةً أو اثنتين وسبعين فِرقةً، والنصارى مثلَ ذلك، وستفترقُ أُمتي على ثلاث وسبعين فِرقةً" (1) .
هذا حديث كبير في الأصول، وقد رُوِيَ عن سعد بن أبي وقَّاص وعبد الله بن عَمرو وعوف بن مالك عن رسول الله ﷺ مِثلُه (2) . وقد احتجَّ مسلم بمحمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة، واتفقا جميعًا على الاحتجاج بالفضل بن موسى، وهو ثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 10 - ما احتج مسلم بمحمد بن عمرو منفردا بل بانضمامه إلى غيره
هذا حديث كبير في الأصول، وقد رُوِيَ عن سعد بن أبي وقَّاص وعبد الله بن عَمرو وعوف بن مالك عن رسول الله ﷺ مِثلُه (2) . وقد احتجَّ مسلم بمحمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة، واتفقا جميعًا على الاحتجاج بالفضل بن موسى، وهو ثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 10 - ما احتج مسلم بمحمد بن عمرو منفردا بل بانضمامه إلى غيره
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور نصاریٰ بھی اسی طرح (تقسیم ہوئے)، اور میری امت عنقریب تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔“
اصولِ دین میں یہ ایک نہایت اہم اور بڑی حدیث ہے، اور اسی طرح کی روایت سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مروی ہے۔
امام مسلم نے محمد بن عمرو عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ کے واسطے سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں (بخاری و مسلم) کا فضل بن موسیٰ سے احتجاج کرنے پر اتفاق ہے اور وہ ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 10]
اصولِ دین میں یہ ایک نہایت اہم اور بڑی حدیث ہے، اور اسی طرح کی روایت سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مروی ہے۔
امام مسلم نے محمد بن عمرو عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ کے واسطے سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں (بخاری و مسلم) کا فضل بن موسیٰ سے احتجاج کرنے پر اتفاق ہے اور وہ ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 10]