🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. إِنَّ اللَّهَ خَالِقُ كُلِّ صَانِعٍ وَصَنْعَتِهِ
اللہ ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کا خالق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 86
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر المقدَّمي، حدثنا الفُضيل بن سليمان، عن أبي مالك الأشجعي، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن حذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله خالقُ كلِّ صانعٍ وصَنْعتِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کا خالق ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، الفضيل بن سليمان - وإن كان فيه كلام - متابَع في الذي قبله، وباقي رجاله ثقات-» [ترقيم الرساله 86] [ترقيم الشركة 86]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 87
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن حَكِيم بن حِزَام قال: قلت: يا رسول الله، رُقًى كنا نسترقي بها، وأدويةٌ كنا نتداوى بها، هل تردُّ من قَدَرِ الله؟ قال:"هو مِن قَدَرِ الله" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ثم لم يخرجاه (1) ، وقال مسلم في تصنيفه فيما أخطأ معمرٌ بالبصرة: إنَّ معمرًا حدَّث به مرتين، فقال مرةً: عن الزهري، عن ابن أبي خِزَامة، عن أبيه. وقال الحاكم: وعندي أنَّ هذا لا يُعلِّله، فقد تابع صالحُ بن أبي الأخضر معمرَ بن راشد في حديثه عن الزهري عن عروة، وصالحٌ وإن كان في الطبقة الثالثة من أصحاب الزهري، فقد يُستشهَد بمثله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 87 - على شرطهما
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جن منتروں (دم درود) سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور جن دواؤں سے ہم علاج کرتے ہیں، کیا وہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ ٹال سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (دوا اور دعا) بھی اللہ کی تقدیر ہی میں سے ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے معمر سے بصرہ میں ہونے والی غلطیوں کے بیان میں کہا ہے کہ معمر نے اسے دو بار روایت کیا، ایک بار «زهري عن ابن ابي خزامه عن ابيه» کی سند سے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میرے نزدیک یہ کوئی علت نہیں ہے کیونکہ صالح بن ابی الاخضر نے معمر بن راشد کی متابعت کی ہے، اور صالح اگرچہ زہری کے شاگردوں کے تیسرے طبقے میں سے ہیں لیکن ان جیسے راویوں سے استشہاد کیا جا سکتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد قد اختُلف فيه على الزهري كما سيذكر المصنف عقبَه وكما في "علل ابن أبي حاتم" (2537) و"علل الدارقطني" 2/ 251 (250)، وقد رواه جماعة من ثقات أصحاب الزهري عنه عن ابن أبي خِزَامة عن أبيه عن النبي ﷺ، أو عن أبي خِزامة عن أبيه كما، ...» [ترقيم الرساله 87] [ترقيم الشركة 87] [ترقيم العلميه 87]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں