🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. إِنَّ اللَّهَ لَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ
اللہ ایمان اسی کو عطا کرتا ہے جس سے محبت کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
حدثناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا مِهْران بن هارون الرازي، حدثنا الفضل بن العباس الرازي - وهو فَضْلَكُ الرازي - حدثنا إبراهيم بن محمد بن حَمَّويهِ الرازي، حدثنا سفيان بن عُقْبة أخو قَبيصة، عن حمزة الزيَّات وسفيان الثَّوري، عن زُبَيد، عن مُرَّة، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ الله قَسَمَ بينكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينكم أرزاقَكم، وإنَّ الله يعطي المالَ مَن يحبُّ ومن لا يحبّ، ولا يُعطي الإيمانَ إلَّا من يحبُّ، وإذا أَحبَّ اللهُ عبدًا أعطاه الإيمانَ" (1) . وأما المتابع الذي ليس من شرط هذا الكتاب، فعبدُ العزيز بن أَبان (2) ، والحديث معروفٌ به، فقد صحَّ بمتابعَينِ لعيسى بن يونس، ثم بمتابع للثوري عن زُبيدٍ، وهو حمزة الزيَّات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 95 - ورواه عبد العزيز بن أبان وليس من شرط كتابنا عن الثوري
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو اسی طرح تقسیم کیا ہے جس طرح تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں، اور یقیناً اللہ تعالیٰ مال اسے بھی دیتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا، لیکن ایمان صرف اسے عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، چنانچہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے ایمان عطا فرما دیتا ہے۔
رہی بات اس متابع (سفیان بن عقبہ) کی جو اس کتاب کی شرط پر نہیں، تو وہ عبدالعزیز بن ابان ہیں اور یہ حدیث ان کے حوالے سے معروف ہے، پس عیسیٰ بن یونس کے دو متابعین اور ثوری کے ایک متابع حمزہ زیات سے یہ حدیث ثابت ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 95]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي. وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشيّ، حدثنا يحيى بن يحيى. وحدثنا محمد بن الحسن، حدثنا هارون بن يوسف، حدثنا ابن أبي عمر؛ قالوا: حدثنا سفيان - واللفظ للحُمَيدي - حدثنا الزُّهْري، حدثني عُروة بن الزُّبير قال: سمعت كُرْز بن علقمة يقول: سأل رجلٌ النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، هل للإسلام من مُنتهًى؟ فقال رسول الله ﷺ:"نَعَم، أيُّما أهلِ بيتٍ من العرب والعَجَم أراد اللهُ بهم خيرًا، أَدخلَ عليهم الإسلامَ، ثمَّ تقع الفتنُ كأنها الظُّلَلُ" (3) . تابعه مَعمَرُ (4) بن راشد ويونسُ بن يزيد عن الزهري. أما حديث مَعمَر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 96 - لم يخرجاه لتفرد عروة عن كرز وهو صحابي_x000D_ أَمَا حَدِيثُ مَعْمَرٍ
سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، عرب یا عجم کا جو بھی گھرانہ ایسا ہو جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اس میں اسلام داخل کر دیتا ہے، پھر (اس کے بعد) ایسے فتنے واقع ہوں گے جیسے (سیاہ) بادلوں کے سائے ہوتے ہیں۔
اس کی متابعت معمر بن راشد اور یونس بن یزید نے بھی کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 96]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں