المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. هُوَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ
وہ ﷺ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی رحمت ہیں
حدیث نمبر: 101
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا أَبي، حدثنا عُبيد الله بن عَمرو، عن زيد بن أبي أُنَيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني قال: سمعتُ ابن عمر يقول: لقد عِشْنا بُرْهةً من دَهرِنا وإنَّ أحدَنا يُؤتَى الإيمانَ قبلَ القرآن، وتنزل السورةُ على محمد ﷺ فيَتعلَّم حلالَها وحرامَها، وما ينبغي أن يُوقَفَ عنده فيها، كما تَعلَّمون أنتم القرآن، ثم قال: لقد رأيت رجالًا يُؤتَى أحدُهم القرآنَ فيقرأُ ما بينَ فاتحتِه إلى خاتمته ما يدري ما آمِرُه ولا زاجِرُه، ولا ما ينبغي أن يُوقَفَ عندَه منه، يَنثُرُه نَثْرَ الدَّقَلِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعرفُ له عِلَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 101 - على شرطهما ولا علة له
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولا أعرفُ له عِلَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 101 - على شرطهما ولا علة له
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”ہم نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ اس حال میں گزارا کہ ہم میں سے ہر ایک کو قرآن (سیکھنے) سے پہلے ایمان عطا کیا جاتا تھا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی سورت نازل ہوتی تو وہ اس کے حلال و حرام اور اس کے احکامات و نواہی کو اسی طرح سیکھتا جیسے تم آج کل قرآن سیکھتے ہو۔ پھر (بعد میں) میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں (ایمان سے پہلے) قرآن دے دیا گیا، وہ اسے آغاز سے انجام تک پڑھ جاتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا امر کیا ہے اور اس کی نہی کیا ہے، اور کن مقامات پر رکنا چاہیے، وہ اسے ردی کھجوروں کی طرح (بغیر سمجھے) بکھیر دیتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت میری معلومات میں نہیں، اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 101]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس میں کوئی علت میری معلومات میں نہیں، اور ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 101]