🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. اتِّبَاعُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سُنَنَ مَنْ قَبْلَهُمْ
اس امت کا پچھلی امتوں کے طریقوں کی پیروی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، حدثنا المِنهال بن عمرو عن زاذانَ أبي عمر قال: سمعت البَرَاءَ بن عازِبٍ يقول: خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازِة رجلٍ من الأنصار فانتهينا إلى القبر ولمَّا يُلحَدْ بعدُ، قال: فقَعَدْنا حولَ النبي ﷺ فجعل يَنظُر إلى السماء ويَنظُر إلى الأرض، وجعل يَرفَعُ بصرَه ويَخفِضُه ثلاثًا، ثم قال:"اللهمَّ إني أعوذُ بك من عذابِ القبر" ثم قال:"إنَّ الرجلَ المسلمَ إذا كان في قُبُلٍ من الآخرة وانقطاعٍ من الدنيا، جاء مَلَكُ الموت فقَعَدَ عند رأسه، ويَنزِلُ ملائكةٌ من السماء كأنَّ وجوههم الشمس، معهم أكفانٌ من أكفان الجنة، وحَنُوطٌ من حَنُوط الجنة، فيقعدون منه مَدَّ البصر" قال:"فيقول مَلَكُ الموت: أيتها النفسُ الطيِّبةُ، اخرُجي إلى مَغفِرةٍ من الله ورِضْوان" قال:"فتخرجُ تَسِيلُ كما تسيلُ القَطْرةُ من السِّقاء، فلا يتركونها في يده طَرْفةَ عين، فيَصعَدُون بها إلى السماء، فلا يَمرُّون بها على جُندٍ من ملائكة إلَّا قالوا: ما هذه الريحُ (1) الطيِّبة؟ فيقولون: فلانٌ؛ بأحسنِ أسمائه، فإذا انتهى إلى السماء فُتِحَت له أبوابُ السماء، ثم يُشيِّعه من كل سماءٍ مُقرَّبوها إلى السماء التي تليها، حتى ينتهيَ إلى السماء السابعة، ثم يقال: اكتُبوا كتابَه في عِلِّيِّينَ، ثم يقال: ارجِعُوا عبدي إلى الأرض، فإني وعدتُهم أني منها خلقتُهم، وفيها أُعِيدُهم، ومنها أُخرِجُهم تارةً أُخرى، فتُرَدُّ روحُه إلى جسده، فتأتيه الملائكةُ فيقولون: مَن ربُّك؟" قال:"فيقول: الله، فيقولون: ما دِينُك؟ فيقول: الإسلام، فيقولون: ما هذا الرجلُ الذي خَرَجَ فيكم؟" قال:"فيقول: رسولُ الله" قال:"فيقولون: وما يُدرِيكَ؟" قال:"فيقول: قرأتُ كتابَ الله فآمنتُ به وصَدَّقتُ" قال:"فينادي منادٍ من السماء: أنْ صَدَقَ، فأَفرِشُوه من الجنة، وأَلبِسُوه من الجنة، وأَرُوه منزلَه من الجنة" قال:"ويُمَدُّ له في قبرِه، ويأتيه رَوْحُ الجنة (1) وريحها" قال:"فيُفعَل ذلك به، ويُمثَّل له رجلٌ حَسَنُ الوجه حسنُ الثياب طيِّبُ الريح، فيقول له: أبِشْر بالذي يسرُّك، هذا يومُك الذي كنت تُوعَد، فيقول: من أنت؟ فوجهُك وجهٌ يُبشِّر بالخير" قال:"فيقول: أنا عملُك الصالحُ" قال:"فهو يقول: ربِّ أقِمِ الساعةَ كي أرجِعَ إلى أهلي ومالي"، ثم قرأ ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [إبراهيم: 27] ."وأما الفاجرُ، فإذا كان في قُبُلٍ من الآخرة وانقطاعٍ من الدنيا، أتاه مَلَكُ الموت، فيَقعُدُ عند رأسه، ويَنزِلُ الملائكةُ سُودُ الوجوه معهم المُسُوح (2) ، فيقعدون منه مَدَّ البصر، فيقول مَلَكُ الموت: اخرجي أيتها النفسُ الخبيثة إلى سَخَطٍ من الله وغضب" قال:"فتَفرَّقُ في جسده فينقطعُ معها العُروقُ والعَصَبُ كما يُستخرَجُ الصوفُ لمبلول بالسَّفُّود (3) ذي الشُّعَب" قال:"فيقومون إليه فلا يَدَعُونها في يده طَرْفَةَ عَيْنٍ، فيصعدون بها إلى السماء فلا يَمرُّون على جُندٍ من الملائكة إلَّا قالوا: ما هذه الروحُ الخبيثة؟" قال:"فيقولون: فلانٌ؛ بأقبحِ أسمائه" قال:"فإذا انتُهِيَ به إلى السماء غُلِّقَت دونَه أبوابُ السماوات" قال:"ويقال: اكتبوا كتابَه في سِجِّينٍ" قال:"ثم يقال: أَعِيدوا عبدي إلى الأرض، فإني وعدتهم أنِّي منها خلقتُهم، وفيها أُعِيدُهم، ومنها أُخرِجُهم تارةً أُخرى" قال:"فيُرمَى بروحه حتى تقعَ في جسده"، قال: ثم قرأ ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الحج: 31] ، قال:"فتأتيه الملائكةُ فيقولون: مَن ربُّك؟" قال:"فيقول: لا أدري، فينادي مُنادٍ من السماء: أن قد كَذَبَ، فأَفرِشُوه من النار، وأَلبِسُوه من النار، وأَرُوه منزلَه من النار" قال:"ويَضِيق عليه قبرُه حتى تختلفَ فيه أضلاعُه" قال: ويأتيه ريحُها وحرُّها" قال:"فيُفعَل به ذلك، ويُمثَّلُ له رجلٌ قبيحُ الوجه، قبيح الثياب، مُنتِنُ الريح، فيقول: أبشِرْ بالذي يَسُوؤُك، هذا يومك الذي كنت تُوعَد" قال:"فيقول: من أنت؟ فوجهُك الوجهُ يُبشِّر بالشرِّ" قال:"فيقول: أنا عملُك الخبيثُ" قال:"وهو يقول: ربِّ لا تُقِمِ الساعةَ" (1) .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں نکلے، جب ہم قبر پر پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، چنانچہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد (خاموشی سے) بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی زمین کی طرف، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اپنی نظر اوپر اٹھائی اور نیچے جھکائی، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مومن بندہ جب دنیا سے کٹ کر آخرت کی طرف مائل ہوتا ہے تو ملک الموت اس کے سرہانے آ بیٹھتا ہے، اور آسمان سے فرشتے اترتے ہیں جن کے چہرے سورج کی طرح (چمکدار) ہوتے ہیں، ان کے پاس جنت کے کفنوں میں سے کفن اور جنت کی خوشبوؤں میں سے خوشبو ہوتی ہے، وہ اس سے حدِ نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت کہتا ہے: اے پاکیزہ نفس! اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طرف نکل آ، پس وہ روح اس طرح (آسانی سے) نکلتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے قطرہ ٹپکتا ہے، فرشتے اسے پلک جھپکنے کی دیر بھی ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے اور اسے لے کر آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں، وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں: یہ کیسی پاکیزہ خوشبو ہے؟ وہ بتاتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے اور اس کا بہترین نام لیتے ہیں، جب وہ آسمانِ دنیا پر پہنچتے ہیں تو اس کے لیے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس کی مشایعت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے، پھر اللہ فرماتا ہے: اس کا نامہ اعمال ’علیین‘ میں لکھ دو، پھر حکم ہوتا ہے: میرے بندے کو زمین کی طرف واپس لے جاؤ کیونکہ میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا، اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا، چنانچہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، پھر اس کے پاس فرشتے آ کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: اللہ، وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: اسلام، وہ پوچھتے ہیں: یہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، وہ پوچھتے ہیں: تجھے کیسے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی، تب آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھاؤ، اسے جنت کا لباس پہناؤ اور اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھاؤ، اس کی قبر کو حدِ نگاہ تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور جنت کی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی رہتی ہے، پھر اس کے سامنے ایک خوبصورت چہرے، نفیس لباس اور بہترین خوشبو والا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: اس چیز کی خوشخبری لو جو تمہیں خوش کر دے، یہ وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ تو خیر کی خوشخبری دینے والا معلوم ہوتا ہے، وہ کہتا ہے: میں تمہارا نیک عمل ہوں، تو وہ بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل و عیال اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [إبراهيم: 27] ۔ اور رہا فاجر (گناہگار) شخص، تو جب وہ دنیا سے منقطع ہو کر آخرت کی طرف جاتا ہے تو ملک الموت اس کے سرہانے آ بیٹھتا ہے، اور سیاہ چہروں والے فرشتے ٹاٹ کے کپڑے لے کر اترتے ہیں اور حدِ نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں، ملک الموت کہتا ہے: اے خبیث نفس! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف نکل آ، تو وہ روح اس کے پورے جسم میں بکھر جاتی ہے (نکلنے سے انکار کرتی ہے) تو ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچ کر نکالتا ہے جیسے بہت سی شاخوں والی لوہے کی سیخ کو گیلے اون سے کھینچا جائے جس سے رگیں اور پٹھے ٹوٹ جاتے ہیں، فرشتے اسے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے، جب وہ اسے لے کر اوپر جاتے ہیں تو فرشتے پوچھتے ہیں: یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا برے سے برا نام لے کر بتاتے ہیں، جب اسے لے کر آسمان پر پہنچتے ہیں تو اس کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے، اللہ فرماتا ہے: اس کا نامہ اعمال ’سجین‘ میں لکھ دو، پھر حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف لوٹا دو، اس کی روح کو اوپر سے پھینک دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے جسم میں آ پڑتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [الحج: 31] ، پھر اس کے پاس فرشتے آ کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے افسوس! میں نہیں جانتا، تب آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا، اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھاؤ، اسے آگ کا لباس پہناؤ اور اسے دوزخ میں اس کا ٹھکانہ دکھاؤ، اس پر اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں، اور دوزخ کی تپش اور گرم ہوا اس تک پہنچتی ہے، پھر اس کے پاس ایک قبیح چہرے، بدبودار اور گندے لباس والا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: اس بری خبر کو سنو جو تمہیں غمزدہ کر دے گی، یہ وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ تو برائی کی علامت ہے، وہ کہتا ہے: میں تمہارا برا عمل ہوں، تو وہ شخص کہتا ہے: اے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران» [ترقيم الرساله 107] [ترقيم الشركة 107]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں