المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
69. إِنَّ خِيَارَ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ يُرَاعُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ وَالْأَظِلَّةَ لِذِكْرِ اللَّهِ
اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جو سورج، چاند، ستاروں اور سائے کے ذریعے اللہ کا ذکر کرتے ہیں
حدیث نمبر: 164
حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذَ قالا: حدثنا بشرُ بن موسى، حدثنا عبد الجبار بن العلاء العطَّار بمكة، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن مِسعَر، عن إبراهيم السَّكسكي، عن ابن أبي أوفى قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ خِيارَ عبادِ الله الذين يُراعُونَ الشمس والقمر والنجوم والأظلَّة لذكر الله" (3) . قال بشر بن موسى: ولم يكن هذا الحديث عند الحُميديِّ في"مسنده". هذا إسناد صحيح، وعبد الجبار العطَّار ثقة، وقد احتجَّ مسلم والبخاري بإبراهيم السَّكسكي (1) ، وإذا صحَّ مثلُ هذه الاستقامة لم يَضُرَّه توهينُ من أفسد إسناده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 163 - إسناده صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 163 - إسناده صحيح
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں جو اللہ کے ذکر (نماز) کے لیے سورج، چاند، ستاروں اور سایوں کا خیال رکھتے ہیں۔“
یہ اسناد صحیح ہے، عبدالجبار عطار ثقہ ہیں اور شیخین نے ابراہیم سکسکی سے احتجاج کیا ہے، اور جب حدیث اس طرح درست ہو تو سند بگاڑنے والوں کی بات اسے نقصان نہیں پہنچاتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 164]
یہ اسناد صحیح ہے، عبدالجبار عطار ثقہ ہیں اور شیخین نے ابراہیم سکسکی سے احتجاج کیا ہے، اور جب حدیث اس طرح درست ہو تو سند بگاڑنے والوں کی بات اسے نقصان نہیں پہنچاتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 164]
حدیث نمبر: 165
أخبرَناه أبو العباس السَّيّاري بمَرُو، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، عن مسعر، عن إبراهيم السَّكسَكي قال: حدثني أصحابُنا، عن أبي الدَّرداء أنه قال: إِنَّ أَحبَّ عباد الله إلى الله الذين يحبِّبون الله إلى الناس، والذين يُراعُونَ الشمس والقمر (2) . هذا لا يُفسد الأولَ ولا يعلَّله، فإنَّ ابن عُيينة حافظ ثقة، وكذلك ابن المبارك، إلا أنه أتى بأسانيد أُخَرَ كمعنى الحديث الأول.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب ترین بندے وہ ہیں جو لوگوں کو اللہ کا محبوب بناتے ہیں، اور جو سورج اور چاند کا (اوقات کے لیے) خیال رکھتے ہیں۔
یہ روایت پہلی حدیث کو معلول (عیب دار) نہیں کرتی کیونکہ ابن عیینہ حافظ اور ثقہ ہیں، اور ابن مبارک بھی ثقہ ہیں مگر وہ دوسری اسناد کے ساتھ پہلی حدیث کے ہم معنی روایت لائے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 165]
یہ روایت پہلی حدیث کو معلول (عیب دار) نہیں کرتی کیونکہ ابن عیینہ حافظ اور ثقہ ہیں، اور ابن مبارک بھی ثقہ ہیں مگر وہ دوسری اسناد کے ساتھ پہلی حدیث کے ہم معنی روایت لائے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 165]