المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ الْمُصَلُّونَ
اللہ کے دوست نمازی لوگ ہیں
حدیث نمبر: 198
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي إملاء، حدثنا أبو قلابة عبد الملك ابن محمد، حدثنا معاذ بن هانئ حدثنا حرب بن شدَّاد، حدثنا حدثنا يحيى بن أبي كثير، عن عبد الحميد بن سنان، عن عُبيد بن عُمَير، عن أبيه، أنه حدَّثه -وكانت له صحبة- أنَّ رسول الله ﷺ قال في حَجَّة الوداع:"ألا إِنَّ أولياء الله المصلُّونَ؛ من يقيمُ الصلوات الخمسَ التي كُتبنَ عليه، ويصومُ رمضان، ويحتسبُ صومه يرى أنه عليه حقٌّ، ويعطي زكاة ماله يحتسبُها، ويجتنبُ الكبائر التي نهى الله عنها"، ثم إنَّ رجلًا سأله فقال: يا رسول الله، ما الكبائرُ؟ فقال:"هنَّ (1) تسعٌ: الشِّرك بالله، وقتلُ نفس مؤمنٍ بغير حقٍّ، وفرارٌ يومَ الزَّحْف، وأكلُ مال اليتيم، وأكلُ الرِّبا، وقذفُ المُحصنة، وعقوقُ الوالدين المسلمين، واستحلالُ البيت الحرام قبلتكم أحياءً وأمواتًا" ثم قال:"لا يموتُ رجل لم يَعمَل هؤلاء الكبائر، ويقيمُ الصلاة ويؤتي الزكاة، إلا كان مع النبي ﷺ في دارٍ أبوابُها مصاريعُ من ذهب" (2) . قد احتجَّا برواة هذا الحديث غيرَ عبد الحميد بن سِنان، فأما عُمَير بن قتادة فإنه صحابيٌّ، وابنه عُبيد متفق على إخراجه والاحتجاج به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 197 - عمير بن قتادة صحابي ولم يحتاجا بعبد الحميد قال قلت لجهالته ووثقه ابن حبان
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 197 - عمير بن قتادة صحابي ولم يحتاجا بعبد الحميد قال قلت لجهالته ووثقه ابن حبان
سیدنا عمیر بن قتادہ رضی اللہ عنہ - جو کہ صحابی ہیں - سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ”خبردار! اللہ کے ولی وہ نمازی ہیں جو ان پانچ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں جو ان پر فرض کی گئی ہیں، رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور اسے اپنا حق سمجھ کر ثواب کی نیت رکھتے ہیں، اپنے مال کی زکوٰۃ خوشدلی سے ادا کرتے ہیں، اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے“، پھر ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نو ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، جہاد کے دن میدان سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، اور بیت اللہ کی حرمت کو حلال سمجھنا جو تمہارا قبلہ ہے زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیے بغیر مرے اور نماز قائم کرے و زکوٰۃ دے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے گھر میں ہوگا جس کے دروازے سونے کے بنے ہوئے ہیں“۔
شیخین نے عبدالحمید بن سنان کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، رہی بات عمیر بن قتادہ کی تو وہ صحابی ہیں اور ان کے بیٹے عبید کی روایات کی تخریج و احتجاج پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 198]
شیخین نے عبدالحمید بن سنان کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، رہی بات عمیر بن قتادہ کی تو وہ صحابی ہیں اور ان کے بیٹے عبید کی روایات کی تخریج و احتجاج پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 198]