المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
100. الشَّفَاعَةُ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
شفاعت ہر مسلمان کے لیے ہوگی۔
حدیث نمبر: 222
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَولاني، حدثنا بشر بن بكر، حدثني ابن جابر قال: سمعت سُليم بن عامر يقول: سمعت عوف بن مالك الأشجعيَّ يقول: نَزَلْنا مع رسول الله ﷺ منزلًا فاستيقظتُ من الليل، فإذا لا أرى شيئًا أطول من مُؤخرة رَحْلي، قد لَصِقَ كلُّ إنسان وبعيرُه بالأرض، فقمتُ أتخلَّلُ الناس حتى دفعتُ إلى مضجع رسول الله ﷺ، فإذا هو ليس فيه، فوضعتُ يدي على الفراش فإذا هو باردٌ، فخرجتُ أتخلَّلُ الناس وأقول: إنا لله وإنا إليه راجعون، ذُهِبَ برسول الله ﷺ، حتى خرجتُ من العسكر كلِّه، فنظرتُ سَوَادًا فمضيتُ فرميتُ بحجر فمضيتُ إلى السواد، فإذا معاذُ بن جبل وأبو عُبيدة بن الجرَّاح وإذا بين أيدينا صوت كدَوِيِّ الرَّحَا أو كصوت القصباء (1) حين يصيبها الريح، فقال بعضنا لبعض: يا قوم اثبتُوا حتى تُصبحوا أو يأتيكم رسول الله ﷺ، فَلَبِثْنا ما شاء الله ثم نادى:"أَثَمَّ معاذُ بن جبلٍ وأبو عُبيدة وعوفُ بن مالك؟" فقلنا: نعم، فأقبل إلينا، فخَرَجْنا لا نسألُه عن شيء ولا يُخبِرُنا حتى قَعَدَ على فراشه فقال:"أتدري ما خيّرني به ربي الليلة؟" فقلنا: الله ورسوله أعلم، قال:"فإنَّه خيَّرني بين أن يُدخِلَ نصفَ أُمتي الجنةَ وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعةَ" فقلنا: يا رسول الله، ادعُ اللهَ أن يجعلنا من أهلها، قال:"هي لكلِّ مُسلِمٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بسُليم بن عامر، وأما سائرُ رواته فمتَّفَقٌ عليهم، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعيد بن أبي عَرُوبة وهشام بن سَنبَر، عن قتادة، عن أبي المليح، عن عوف بن مالك. أما حديث سعيد:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بسُليم بن عامر، وأما سائرُ رواته فمتَّفَقٌ عليهم، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعيد بن أبي عَرُوبة وهشام بن سَنبَر، عن قتادة، عن أبي المليح، عن عوف بن مالك. أما حديث سعيد:
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک منزل پر اترے، میں رات کے وقت بیدار ہوا تو مجھے اپنی سواری کے کجاوے کے پچھلے حصے سے لمبی کوئی چیز نظر نہ آئی (یعنی ہر چیز اندھیرے میں ڈوبی تھی)، ہر انسان اور اونٹ زمین سے چمٹ کر سو رہا تھا۔ میں لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتا ہوا آگے بڑھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر تک پہنچ گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نہ تھے۔ میں نے بستر پر ہاتھ رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا (یعنی آپ کو گئے وقت گزر چکا تھا)۔ میں لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں (دشمن کے ذریعے) لے تو نہیں جائے گئے۔ یہاں تک کہ میں پورے لشکر سے باہر نکل گیا، وہاں مجھے ایک سیاہی (سایہ) نظر آئی، میں نے اس کی طرف ایک پتھر پھینکا اور اس کی جانب بڑھا، تو وہاں سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما موجود تھے۔ ہمارے سامنے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے چکی چلنے کی آواز ہو یا جیسے سرکنڈوں کے جھنڈ سے ہوا گزرنے کی آواز آتی ہے۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اے لوگو! یہیں جمے رہو یہاں تک کہ صبح ہو جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس خود تشریف لے آئیں۔ ہم جتنا اللہ نے چاہا وہاں ٹھہرے رہے، پھر آواز آئی: ”کیا وہاں معاذ بن جبل، ابوعبیدہ اور عوف بن مالک ہیں؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ سے کچھ نہ پوچھا اور نہ آپ نے ہمیں کچھ بتایا یہاں تک کہ آپ اپنے بستر پر تشریف فرما ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے اس بات میں اختیار دیا ہے کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا پھر مجھے شفاعت کا حق دے دیا جائے، تو میں نے شفاعت کو چن لیا۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ ہمیں شفاعت پانے والوں میں شامل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شفاعت ہر (موحد) مسلم کے لیے ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے سلیم بن عامر سے احتجاج کیا ہے، اور باقی تمام راویوں پر (شیخین کا) اتفاق ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 222]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے سلیم بن عامر سے احتجاج کیا ہے، اور باقی تمام راویوں پر (شیخین کا) اتفاق ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 222]
حدیث نمبر: 223
فحدَّثَناه الحسن بن يعقوب العَدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد. قال (3) : وحدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا هارون بن إسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، أنَّ أبا المَلِيح الهُذَلي حدَّثهم، أنَّ عوف بن مالك قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه، فذكر الحديث (1) . وأما حديث هشام الدَّستُوائي (2) :
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر انہوں نے سابقہ حدیث کے مثل ذکر کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 223]
حدیث نمبر: 224
فحدَّثَناه أبو زكريا العَنبَري وعلي بن عيسى بن إبراهيم قالا: حدثنا إبراهيم ابن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن أبي المليح، عن عوف بن مالك قال: كنَّا مع النبي ﷺ، فذكر الحديث بطوله (3) . حديث قتادة
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه. وقد روى هذا الحديث أبو قِلابة عبدُ الله بن زيد الجَرمي عن عوف بن مالك:
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه. وقد روى هذا الحديث أبو قِلابة عبدُ الله بن زيد الجَرمي عن عوف بن مالك:
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر انہوں نے مکمل طویل حدیث ذکر کی۔
قتادہ کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 224]
قتادہ کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 224]
حدیث نمبر: 225
أخبرني الحسين بن علي بن محمد بن يحيى التميمي، حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثنا إسحاق بن شاهين، حدثنا خالد بن عبد الله، عن خالد الحذَّاء، عن أبي قلابة، عن عوف بن مالك، قال: كنا مع رسول الله ﷺ في بعض مَغازيه، فانتهينا ذات ليلةٍ فلم نَرَ رسول الله ﷺ في مكانه، وإذا أصحابُنا [كأنَّ على رؤوسهم الصخرَ] (4) وإذا الإبلُ قد وَضَعَت جرانها، فإذا أنا بخيالٍ، فإذا معاذُ بن جبل، فتصدَّى لى وتصدَّيتُ له، فقلت: أين رسول الله ﷺ؟ قال: وَرَائي، وذكر الحديث (1) . وهذا صحيح من حديث أبي قلابة على شرط الشيخين. وقد رُوِيَ هذا الحديث عن أبي موسى الأشعري عن عوف بن مالك بإسنادٍ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 221 - مر متنه قال وهذا على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 221 - مر متنه قال وهذا على شرط مسلم
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک رات ہم نے پڑاؤ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر موجود نہ تھے، ہمارے ساتھی (ایسی گہری نیند میں) تھے گویا ان کے سروں پر چٹانیں ہوں اور اونٹ بھی زمین سے گردنیں لگائے بیٹھے تھے۔ مجھے ایک سایہ نظر آیا، دیکھا تو وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے، ہم ایک دوسرے کے سامنے ہوئے تو میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ میرے پیچھے ہی ہیں، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔
ابو قلابہ کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 225]
ابو قلابہ کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 225]