🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

112. مَثَلُ الْإِسْلَامِ وَحُدُودِ اللَّهِ
اسلام اور اللہ کی حدود کی مثال۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 247
أخبرنا أبو الحُسين عُبيد الله بن أحمد التاجر ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح. وأخبرني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن نوَّاس بن سِمْعانَ صاحب النبي ﷺ، عن رسول الله ﷺ قال:"ضَرَبَ اللهُ مثلًا صراطًا مستقيمًا، وعلى كَنَفَيِ الصِّراطِ سُوران فيهما أبوابٌ مُفتَّحة، وعلى الأبواب سُتورٌ مُرْخاة، وعلى الصراط داعٍ يدعو يقول: يا أيها الناس، اسلُكوا الصراطَ جميعًا ولا تَعوَجُّوا، وداعٍ يدعو على الصراط، فإذا أراد أحدُكم فتحَ شيءٍ من تلك الأبواب قال: ويلَكَ لا تَفتَحْه، فإنك إنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْه، فالصراطُ: الإسلامُ، والسُّتورُ: حدودُ الله، والأبوابُ المفتَّحة: محارِمُ الله، والداعي الذي على رأسِ الصراط: كتابُ الله، والداعي من فوقُ: واعظُ اللهِ في كل مُسلِم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أعرفُ له عِلَّةً، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 245 - على شرط مسلم ولا علة له
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک سیدھا راستہ ہے جس کے دونوں کناروں پر دو دیواریں ہیں، ان میں کھلے ہوئے دروازے ہیں اور ان دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ اس راستے کے شروع میں ایک پکارنے والا پکار رہا ہے: اے لوگو! تم سب کے سب اس سیدھے راستے پر چلو اور ادھر ادھر نہ مڑو، اور ایک پکارنے والا اس راستے کے اوپر سے پکارتا ہے، پس جب تم میں سے کوئی ان (ممنوعہ) دروازوں میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے: تیرا ناس جائے! اسے مت کھولنا، کیونکہ اگر تو نے اسے کھولا تو تو اس میں داخل ہو جائے گا۔ یہاں ’صراط‘ سے مراد اسلام ہے، ’دیواریں‘ اللہ کی حدود ہیں، ’کھلے ہوئے دروازے‘ اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں، ’راستے کے سرے پر پکارنے والا‘ اللہ کی کتاب (قرآن) ہے، اور ’اوپر سے پکارنے والا‘ ہر مسلمان کے دل میں اللہ کی طرف سے موجود نصیحت کرنے والا (ضمیر) ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت (نقص) معلوم نہیں ہوتی، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 247]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 247] [ترقيم الشركة 245] [ترقيم العلميه 245]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں