المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
117. جَوَازُ تَعَلُّمِ كِتَابَةِ الْيَهُودِ
یہودیوں کی کتابت (لکھائی) سیکھنے کی اجازت۔
حدیث نمبر: 254
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت قال: قال زيد بن ثابت: أَمَرني رسول الله ﷺ فتعلَّمتُ له كتابةَ اليهود، وقال:"إني والله ما آمَنُ يهودَ على كِتابي"، فتعلَّمتُه، فلم يمُرَّ بي نصفُ شهرٍ حتى حَذَقتُه، قال أَبي: فكنت أكتبُ له إذا كَتَبَ، وأقرأُ له إذا كُتِبَ إليه (3) . قد استَشهَدا جميعًا بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد. و
هذا حديث صحيح، ولا أعرفُ في الرُّخْصة لتعلُّم كتابةِ أهل الكتاب غيرَ هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 252 - هذا صحيح
هذا حديث صحيح، ولا أعرفُ في الرُّخْصة لتعلُّم كتابةِ أهل الكتاب غيرَ هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 252 - هذا صحيح
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اللہ کی قسم! مجھے اپنی خط و کتابت کے معاملے میں یہودیوں پر بھروسہ نہیں ہے“، پس میں نے اسے سیکھ لیا اور ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں اس میں ماہر ہو گیا، وہ کہتے ہیں: پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کو خط لکھواتے تو میں لکھتا تھا اور جب ان کی طرف سے خط آتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سناتا تھا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور مجھے اہلِ کتاب کی تحریر سیکھنے کی رخصت کے بارے میں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث معلوم نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 254]
یہ حدیث صحیح ہے اور مجھے اہلِ کتاب کی تحریر سیکھنے کی رخصت کے بارے میں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث معلوم نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 254]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 254] [ترقيم الشركة 252] [ترقيم العلميه 252]
الحكم على الحديث: إسناده حسن