المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. الْعِلْمُ وَالْإِيمَانُ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا
علم اور ایمان اپنی جگہ مقرر رکھتے ہیں، جو انہیں تلاش کرے وہ انہیں پالیتا ہے۔
حدیث نمبر: 340
حدَّثَناه علي بن حمشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا نُعيم بن حمَّاد، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن عَجْلان، حدثني ابن شِهاب، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن معاذ بن جبل قال: العلمُ والإيمانُ مكانَهما، مَن ابتغاهما وَجَدَهما (3) .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علم اور ایمان اپنی جگہ پر ہیں، جو انہیں ڈھونڈے گا وہ انہیں پا لے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 340]
حدیث نمبر: 341
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عُبيد بن شَرِيكَ البزَّار، حدثنا يحيى بن عبد الله بن بُكَير، حدثني الليث بن سعد، عن إبراهيم بن أبي عَبْلة، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن جُبير بن نُفَير، أنه قال: حدثني عوفُ بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ نَظَرَ إلى السماء يومًا فقال:"هذا أوانُ أن يُرفَعَ العِلمُ"، فقال له رجل من الأنصار - يقال له: ابن لَبِيد -: يا رسول الله، كيف يُرفَعُ العلمُ وقد أُثبِتَ في الكتب، ووَعَتْه القلوب؟ فقال رسول الله ﷺ:"إن كنتُ لأحسَبُك من أفقَهِ أهل المدينة"، ثم ذكر ضلالةَ اليهود والنصارى على ما في أيديهم من كتاب الله. قال: فلَقِيتُ شَدَّادَ بن أَوْس فحدَّثتُه بحديث عوف بن مالك، فقال: صَدَقَ عوفٌ، ألا أُخبرُك بأوَّل ذلك يُرفَع؟ قلت: بلى، قال: الخشوعُ، حتى لا تَرى خاشعًا (1) .
هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ الشيخان بجميع رُواتِه (2) ، والشاهد لذلك فيه شدَّاد بن أَوْس، فقد سمع جبيرُ بنُ نُفير الحديثَ منهما جميعًا، ومن ثالثٍ من الصحابة وهو أبو الدَّرداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 337 - صحيح احتجا برواته
هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ الشيخان بجميع رُواتِه (2) ، والشاهد لذلك فيه شدَّاد بن أَوْس، فقد سمع جبيرُ بنُ نُفير الحديثَ منهما جميعًا، ومن ثالثٍ من الصحابة وهو أبو الدَّرداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 337 - صحيح احتجا برواته
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ وہ وقت ہے جب علم اٹھا لیا جائے گا“، تو انصار کے ایک صاحب (جنہیں ابن لبید کہا جاتا ہے) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ وہ کتابوں میں درج ہے اور اسے دلوں نے محفوظ کر رکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا تو یہ خیال تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے بڑے فقیہ ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ ان کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہونے کے باوجود وہ گمراہ ہوئے۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں عوف بن مالک کی حدیث سنائی، انہوں نے کہا: عوف نے سچ کہا، کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے پہلے اٹھائی جائے گی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؛ انہوں نے کہا: وہ ’خشوع‘ ہے، یہاں تک کہ (ایک وقت آئے گا کہ) تم کوئی ایک خاشع (عاجزی کرنے والا) بھی نہیں دیکھو گے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور اس کے لیے شداد بن اوس والا شاہد موجود ہے، اور جبیر بن نفیر نے ان دونوں اور ایک تیسرے صحابی یعنی ابو الدرداء سے یہ حدیث سنی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 341]
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور اس کے لیے شداد بن اوس والا شاہد موجود ہے، اور جبیر بن نفیر نے ان دونوں اور ایک تیسرے صحابی یعنی ابو الدرداء سے یہ حدیث سنی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 341]